معرفت دعوت
Urdu book, p. 169
By Maulana Wahiduddin Khan
دوچار ہے، اور وہ کثافت (pollution) ہے۔ کثافت کے مسئلے نے موجودہ زمانے میں فضاؤں اور سمندروں کو آلودگی سے بھر دیا۔ قرآن کے یہ الفاظ آج پوری طرح واقعہ بن چکے ہیں: ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (30:41)۔ یعنی خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے، تا کہ اللہ مزا چکھائے اُن کو اُن کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آجائیں۔ عارفانہ دریافت کا سفر قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ (31:27)۔ یعنی اگر زمین میں جو درخت ہیں، وہ قلم بن جائیں اور سمندر، سات مزید سمندروں کے ساتھ روشنائی بن جائیں، تب بھی اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔ اس آیت میں کلمات اللہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں دوسرے مقام پر، آلاء اللہ کہا گیا ہے، یعنی عجائب خداوندی (wonders of God)۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو عبادت (الذاریات،51:56) کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ صحابی مفسر عبداللہ بن عباس نے اس آیت میں، عبادت کا مطلب معرفت بتایا ہے (الاسرار المرفوعة لملاعلي القاري، حدیث نمبر 353)۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک خصوصی مخلوق کے طور پر پیدا کیا ہے، انسان کو سوچنے والا دماغ دیا ہے جو کسی اور کو نہیں دیا۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ غور و فکر کے ذریعے تخلیقات میں چھپے ہوئے آلاء اللہ کو دریافت کرے، اور استعجاب کے درجے میں اُن کا اعتراف کرے۔ گویا کہ قرآن کی مذکورہ آیت میں یہ کہا گیا ہے : I created man only to discover and appreciate the wonders of God. تہذیب کا سفر دراصل اسی عارفانہ دریافت کا سفر تھا، مگر اس سفر کا ابھی ایک فی صد سے بھی بہت کم حصہ طے ہوا تھا کہ اس کی حد آ گئی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ کلمات اللہ یا آلاء اللہ ابھی لامتناہی حد تک باقی ہیں، پھر کیا ایسا ہوگا کہ انسانی تاریخ یوں ہی نا تمام طور پر ختم ہو جائے اور کلمات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader