Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت دعوت

Urdu book, p. 168

By Maulana Wahiduddin Khan

زبان صرف ایک ہے، اور وہ انگریزی زبان ہے۔ ’’لسان‘‘ کے مسئلے کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ وہ معاصر مخاطبین کے اسلوب میں ہو۔ آج کا اسٹینڈرڈ اسلوب وہ ہے جس کو سائنٹفک اسلوب کہا جاتا ہے۔ اگر آج کے انسان کو مخاطب کرنا ہے تو ضروری ہے کہ داعی کا کلام وقت کے اسلوب میں ہو، ورنہ یہ حال ہوگا کہ داعی بظاہر بولے گا، لیکن مدعو کا مانئڈ اس سے ایڈریس نہیں ہوگا۔ ایسے کلام کو دعوتی کلام نہیں کہا جا سکتا۔ سائنٹفک اسلوب کیا ہے اور قدیم روایتی اسلوب کیا تھا۔ قدیم روایتی اسلوب وہ تھا جس میں شعر، ادب، خطابت، رومانیت، تمثیل اور مبالغہ آرائی کی زبان میں کسی بات کے کہنے کو بھی کہنا سمجھا جاتا تھا۔ جذباتی طور پر پرکشش الفاظ بولنے والے لوگ بھی داد کے مستحق قرار پاتے تھے۔ موجودہ زمانے میں اس قسم کا اسلوب پوری طرح متروک ہو چکا ہے۔ موجودہ زمانے کا اسٹینڈرڈ اسلوب سائنٹفک اسلوب ہے۔ سائنٹفک اسلوب وہ ہے جو مبنی بر حقیقت اسلوب ہو۔ جس کے الفاظ اور معنی میں کامل مطابقت پائی جائے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ سائنٹفک اسلوب وہ ہے جو پورے معنوں میں علمی اور منطقی (rational) اسلوب ہو۔ موجودہ زمانے میں وہی لٹریچر دعوتی لٹریچر ہے جو اس سائنٹفک اسلوب میں لکھا گیا ہو یہی سائنٹفک اسلوب قرآن کا اسلوب ہے۔ جنتی تہذیب تہذیب (civilization) کا آغاز قدیم زمانے میں اُس وقت ہوا جب کہ انسان نے لوہے کو دریافت کیا۔ یہ دور ہزاروں سال تک چلتا رہا۔ ساتویں صدی عیسوی میں مسلم تہذیب کا آغاز ہوا۔ مسلم تہذیب کا بنیادی کارنامہ یہ تھا کہ اٗس نے فطرت (nature) کو پرستش کے مقام سے ہٹا کر اس کو تحقیق (investigation) کے دور میں داخل کیا۔ اِس کے بعد سولہویں صدی میں مغربی تہذیب کا دور شروع ہوا۔ اِس دور کا خاص پہلو میکانائزیشن آف پاور (mechanization of power) تھا۔ تہذیب کا سفر امکان کے اعتبار سے، ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ بیسویں صدی عیسوی میں اِس کی ترقی اپنی آخری حد پر پہنچ گئی۔ معلوم ہوا کہ انسان کی قائم کردہ میکانکل صنعت ایک لازمی مسئلے سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page