Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت دعوت

Urdu book, p. 171

By Maulana Wahiduddin Khan

معرفت کا ابدی سفر وہ کون خوش نصیب لوگ ہوں گے جو آخرت کی روحانی تہذیب ( spiritual civilization ) کوظہور میں لائیں گے اور تخلیق میں خدائی عجائب کو ان فولڈ (unfold) کرنے کا ابدی رول ادا کریں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں اس انوکھی صلاحیت کا ثبوت دیں گے کہ وہ دنیا کے محدود حالات میں معرفتِ خداوندی کی دریافت کی آخری حد تک پہنچیں۔ یہی وہ صلاحیت ہے جو اُن کو اس کا اہل ثابت کرے گی کہ وہ آخرت کے لامحدود حالات میں خدائی معرفت کی دریافت کا ابدی سفر طے کریں۔ ساتویں صدی عیسوی میں بنواسماعیلی کو یہ موقع ملا کہ وہ پیغمبر آخر الزماں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب کے اصحاب بن کر روایتی دور میں وہ عمل (process) جاری کریں جو آخر کار جنت کی روحانی تہذیب (spiritual civilization) تک پہنچنے والا تھا۔ بنواسماعیلی کی وہ صفت کیا تھی جس کی بنا پر وہ اصحابِ رسول کا درجہ پانے کے مستحق قرار پائے، اس کو ایک مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ قدیم مکہ میں قبائل قریش کے جو لوگ تھے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ، حق کے متلاشی تھے۔روایات میں ایسے لوگوں کو حُنفاء کہا گیا ہے، یعنی متلاشی۔ اُنھیں حنفاء میں سے ایک زید بن عمرو بن نُفیل تھے۔ اسماء بنت ابی بکر کہتی ہیں کہ میں نے زید بن عمر بن نُفیل کو دیکھا ہے۔ وہ کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے اور وہ یہ کہہ رہے تھے : اَللَّهُمَّ إِنِّي لَوْ أَعْلَمُ أَحَبَّ الْوُجُوهِ إِلَيْكَ عَبَدْتُكَ بِهِ، وَلَكِنِّي لَا أَعْلَمُ (السيرة النبوية لابن كثير، 1/154) یعنی اے اللہ، اگر میں جانتا کہ تیری عبادت کرنے کا سب سے اچھا طریقہ کیا ہے تو میں اِسی طرح تیری عبادت کرتا، مگر میں اس طریقے کو نہیں جانتا۔ یہ ایک شخصی واقعہ نہیں، یہ دراصل بنواسماعیلی کی عمومی صفت کی ایک شخصی نمائندگی ہے۔ ساتویں صدی عیسوی کے بنواسماعیلی قبل از اسلام کی مذہبی روایات میں آخری حد تک پہنچ چکے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اُن کو چنا کہ وہ بعداز اسلام کے انقلابی مذہبی رول کو انجام دیں۔ آخرت کے دور میں جو مطلوب رول ادا کرنا ہے، اُس کو ایک لفظ میں ، روحانی تہذیب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page