Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت دعوت

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

(spiritual civilization) کو ظہور میں لانے کا رول کہا جا سکتا ہے۔ اس رول کو انجام دینے کے لیے اعلیٰ سطح کے روحانی سائنس داں (spiritual scientists) درکار ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا شعور موجودہ دنیا کے اعتبار سے، آخری دریافت کے مرحلے تک پہنچ گیا۔ یہ اعلیٰ روحیں ہیں جو خدائی تخلیقات میں اس کے اندر چھپے ہوئے خدائی عجائب (divine wonders) کو دریافت کریں۔ اُن کی یہ دریافت اتنی گہری ہو کہ وہ محسوس کریں کہ اُس کے اظہار کے لیے اُن کے پاس الفاظ موجود نہیں ہیں۔ کائناتی عجائب کو دیکھنے کے بعد دوبارہ وہ کہہ سکیں کہ خدایا، میں نہیں جانتا کہ میں تیرے تخلیقی عجائب کا بیان کس طرح کروں، اگر میں اس کو جانتا تو یقینا میں اُنھیں مطلوب الفاظ میں اس کا اظہار کرتا: O God, I don't know how to appreciate your wonders. If I had known it, I would certainly have appreciated it in those words. موجودہ دنیا میں خدائی عجائب (divine wonders) کی ان فولڈنگ (unfolding) عام انسانی الفاظ میں ہوئی تھی، آخرت کی دنیا میں خدائی عجائب کی ان فولڈنگ خدا کی طرف سے دئے ہوئے خصوصی الفاظ کے ذریعے ہوگی۔ دنیا میں یہ کام انسان کی مدد سے انجام پایا تھا، آخرت میں یہ کام فرشتوں کی مدد سے انجام پائے گا۔ اس کے بعد عجائبِ خداوندی کے ظہور کا وہ واقعہ پیش آئے گا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا (39:69)۔ خلاصہ اسلام، تاریخ کا ایک عظیم ترین انقلاب تھا، لیکن اس حقیقت کو نہ مسلم اہل علم نے سمجھا اور نہ غیر مسلم اہل علم نے۔ مسلمانوں نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف اپنے قومی فخر کے طور پر دریافت کیا۔ ڈاکٹر مائیکل ہارٹ صرف یہ دریافت کر سکے کہ رسول اللہ تاریخ کے سب سے زیادہ کامیاب انسان تھے: Muhammad was the supremely successful man in history. ساتویں صدی عیسوی میں پیش آنے والا اسلامی انقلاب در اصل مبنی بر توحید انقلاب تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page