Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت دعوت

Urdu book, p. 173

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سے پہلے کی پوری تاریخ میں انسانی زندگی کا نظام شرک پر مبنی نظام ہوا کرتا تھا۔ اسلامی انقلاب نے پہلی بار مبنی بر شرک نظام کو توڑا اور اس کی جگہ تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کیا جس کو توحید پر مبنی دور کہا جا سکتا ہے۔ بعد کی صدیوں میں انسانی زندگی میں جو تعمیری واقعات ہوئے، وہ اسی انقلاب کا براہ راست یا بالواسطہ نتیجہ تھے، خواہ وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے مذہبی ہوں یا سیکولر۔ یہ انقلاب اصلاً ایک نظری اور اعتقادی انقلاب تھا۔ اس کے اندر اعلیٰ معرفت کا سامان تھا، اس کے اندر ربانی غذائیں چھپی ہوئی تھیں، اس کے اندر وہ تمام اجزا موجود تھے جن کے ذریعے انسانی شخصیت کا مثبت ارتقا کیا جا سکے ۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ انسان اپنی مادی خواہشوں کے پیچھے دوڑ پڑا۔ اس نے اس انقلاب کے سیکولر پہلو کو لیا اور اس کے مذہبی اور روحانی پہلو کو چھوڑ دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسانی تاریخ شرک کے دور سے نکل کر الحاد کے راستے پر چل پڑی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس غلطی کی تصحیح کی جائے ۔ انسانی تاریخ کو دوبارہ الحاد کے راستے سے ہٹا کر توحید کے راستے پر لایا جائے، تا کہ انسان اُن نعمتوں کو پا سکے جو اس کے لیے اس دنیا میں مقدر کی گئی ہیں، یعنی خالق کی اعلیٰ معرفت، انسانی شخصیت کا ربانی ارتقاء، اعترافِ الہی کے اعلیٰ تجربات کو پانا، حقیقی معنوں میں ایک روحانی سائنس کو وجود میں لانا، اُس ربانی انسان کی تشکیل جو آخرت کی زندگی میں جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے، وغیرہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page