Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

جس کے ذریعے وہ معرفت کی اس قسم کو سمجھ سکے۔ اس لیے وہ اس کا تصور بھی نہ کر سکتا تھا۔ اور جو چیز قابلِ تصور نہ ہو، وہ قابلِ دریافت بھی نہیں بن سکتی۔ موجودہ زمانے میں ڈارک میٹرَس (dark matters) کی دریافت نے پہلی بار اس معاملے میں انسان کو ایک پوائنٹ آف ریفرنس دیا۔ یہ دریافت بتاتی ہے کہ خلا کا تقریباً 95 فی صد حصہ نہایت روشن ستاروں سے بھرا ہوا ہے، لیکن وہ ہمیں نظر نہیں آتا۔ کیوں کہ ان کی قوتِ کشش اتنا زیادہ ہے کہ وہ اپنی روشنی کو اپنے اندر روکے ہوئے ہیں اور اس کو باہر جانے نہیں دیتے۔ یہ دریافت ایک خدائی مظہرہ (divine demonstration) ہے۔ یہ دریافت ایک واقعہ کی صورت میں بتا رہی ہے کہ قادرِ مطلق خدا کے لیے یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنی قدرتِ کاملہ کو کسی مخلوق کی نسبت سے روک لے۔ چناں چہ خدا نے انسانی اختیار کو حقیقی بنانے کے لیے انسان کی نسبت سے اپنی قدرت کو روک لیا ہے۔ خدا کی قدرتِ کاملہ کے باوجود انسان کو روزِ قیامت تک حقیقی معنوں میں آزادانہ اختیار حاصل ہے۔ یہ دریافت ایک ریفرنس پوائنٹ ہے، جو تیسری قسم کی معرفت کے حصول کو ممکن بناتی ہے۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ انسان اپنے عجز کو دریافت کرے۔ اس کے بعد وہ مذکورہ پوائنٹ آف ریفرنس کے ذریعے یہ دریافت کرے کہ عجزِ کامل کے باوجود وہ اس دنیا میں محدود مدت کے لیے کامل اختیار کا مالک ہے۔ اس دریافت کے بعد وہ شعوری طور پر ایسا کرے کہ کامل آزادی کے باوجود خدا کے مقابلے میں وہ کامل طور پر سرینڈر کر دے۔ یہ بلاشبہ مشکل ترین کام ہے۔ اس میں کسی انسان کو دو انتہائی متضاد چیزوں کے درمیان جینا پڑتا ہے ایک طرف کامل عجز اور دوسری طرف کامل اختیار۔ جو انسان اپنے شعور کو اتنا زیادہ ترقی یافتہ بنا سکے کہ وہ ان دو متضاد چیزوں کے درمیان جی سکے، وہی وہ انسان ہے جو تیسری قسم کی معرفت حاصل کرے گا۔ یہ تیسری قسم کی معرفت ایک حقیقی انسان کے لیے ناممکن نہیں۔ کیوں کہ انسان کے اندر فطری طور پر یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ متضاد افکار کا مجموعہ (mixture of opposites) بن سکے۔ اسی حقیقت کو ایک مغربی مفکر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: I am large enough to contain all these contradictions

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page