معرفت الہی
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
اعلیٰ درجۂ معرفت قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ خدا کی عبادت کرے (الذاریات، 56)۔ اس آیت میں خدا کی عبادت سے مراد خدا کی معرفت ہے۔ معرفت خدا وندی کی دریافت بلاشبہ کسی انسان کی ذہنی ترقی کی اعلیٰ ترین منزل ہے۔ وہی انسان اعلیٰ انسان ہے جو معرفت کے اس درجے کو حاصل کرے۔ اس معرفت کی تین قسمیں ہیں۔ پہلی اور دوسری قسم کی معرفت کا تجربہ تاریخ میں واقعہ بن چکا ہے۔ جہاں تک تیسری قسم کی معرفت کا تعلق ہے، اس کے واقعہ بننے کا امکان پہلی بار صرف اکیسویں صدی عیسوی میں قابل حصول بن سکاہے۔ پہلی قسم کی دریافت کا تجربہ بہ طور پیغمبروں کو حاصل ہوا۔ یہ تجربہ رُویت‘‘ کی سطح پر ہوا۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (6:75)۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آیا ہے: وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى (53:13)۔ یہ معرفت کی وہ قسم ہے جو رویت کی سطح پر حاصل ہوتی ہے۔ یہ معرفت صرف پیغمبروں کے لیے مخصوص ہے۔ دوسری معرفت وہ ہے جو اپنے عجز کی دریافت کی سطح پر ہوتی ہے۔ انسان، خدا کے قادرِ مطلق ہونے کے مقابلہ میں اپنے عاجزِ مطلق ہونے کی حیثیت کو دریافت کرتا ہے۔ اس طرح وہ خدا کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ اس بات کو خلیفہ چہارم حضرت علی کی طرف منسوب ایک روایت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: عرفتُ رَبّی بفسخ العزائم (میں نے اپنے رب کو عزائم کے ٹوٹنے سے دریافت کیا)۔ معرفت کی تیسری قسم وہ ہے جو اختیار کی سطح پر ہوتی ہے، یعنی آدمی کامل اختیار رکھتے ہوئے خدا کی عظمت کو دریافت کرتا ہے اور اختیارانہ طور پر خدا کے آگے سرنڈر کر دیتا ہے۔ یہ بلاشبہ مشکل ترین کام ہے۔ تمام فلاسفہ اور متکلمین اس بحث میں پڑے رہے کہ خدا جب قادرِ مطلق ہے تو انسان کی حیثیت صرف عاجزِ مطلق کی بنتی ہے، انسان کے با اختیار ہونے کا نظریہ صرف خیالی ہے۔ تیسری قسم کی معرفت کے لیے انسان کے پاس پہلے ایسا کوئی پوائنٹ آف ریفرنس موجود نہ تھا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader