تزکیۂ نفس
Urdu book, p. 183
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مثال کے ذریعے اس طرح بتایا گیا ہے: اِنَّ ھٰذِهِ الْقُلُوْبَ تَصْدَأُ، كَمَا يَصْدَأُ الْحَدِيْدُ اِذَا اَصَابَهُ الْمَاءُ۔ قِيْلَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ، وَمَا جِلَاؤُھَا؟ قَالَ: كَثْرَةُ ذِكْرِ الْمُوْتِ وَتِلَاوَةُ الْقُرْاٰنِ (شعب الایمان، حدیث نمبر 1859)۔ یعنی دلوں میں زنگ لگتا ہے، جیسے کہ لوہے میں زنگ لگتا ہے جب کہ اس پر پانی پڑ جائے۔ پوچھا گیا کہ اے خدا کے رسول، اس کو صاف کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ موت کو بہت زیادہ یاد کرنا اور قرآن کا مطالعہ کرنا۔ اس حدیث رسول میں تمثیل کے ذریعے ایک نفسیاتی حقیقت کو بتایا گیا ہے، وہ یہ کہ سماج کے اندر رہتے ہوئے انسان بار بار ایسے حالات سے گزرتا ہے جو اس کے اندر منفی جذبات پیدا کرتے ہیں۔ مثلاً غصہ، نفرت، تشدد، انتقام، وغیرہ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ان جذبات کو فوراً ختم کرے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو یہ منفی جذبات انسانی ذہن کا مستقل حصہ بن جائیں گے، یہاں تک کہ اُن کو دور کرنا عملاً نا ممکن ہو جائے گا۔ انسانی دماغ کے دو بڑے حصے ہیں شعور (conscious mind)، اور لاشعور (unconscious mind)۔ فطری نظام کے تحت، کوئی منفی احساس پہلے ذہن کے شعوری حصے میں داخل ہوتا ہے۔ اگر اس کو فوراً ذہن سے نکالا نہ جائے تو وہ دھیرے دھیرے ذہن کے لاشعوری حصے میں پہنچ جاتا ہے، جہاں سے اس کو نکالنا سخت مشکل ہو جاتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ہر لمحہ اپنا نگراں بنا رہے، وہ ہر لمحہ اپنے منفی احساس کو پراسس (process) کر کے مثبت احساس میں تبدیل کرتا رہے، یعنی وہ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کرے، وہ اپنے ذہن کی تطہیر کر کے اس کی آلودگی کو ختم کرتا رہے۔ اس تطہیر یا ڈی کنڈیشننگ کا ذریعہ ہے اپنی موت کو بار بار یاد کرنا اور قرآن کی روشنی میں زندگی کے انجام پر غور و فکرا کرتے رہنا۔ تزکیہ : روحانی خوراک جسم کی ایک خوراک ہے۔ یہ خوراک جسم کو پہنچائی جائے تو جسم صحت مند ہو جائے گا۔ اسی طرح روح کی ایک خوراک ہے۔ یہ خوراک جب روح کو پہنچائی جاتی ہے تو روح صحت مند ہو جاتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader