Urdu book · کتابِ معرفت

تزکیۂ نفس

Urdu book, p. 184

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے ۔ اسی عمل کا نام تزکیہ نفس ہے اور اسی صحت مند روح کو مصفیٰ اور مزکیٰ روح کہا جاتا ہے۔ قرآن کے مطابق، روح کی یہ خوراک تفکیر ( آل عمران ، 3:191) ہے۔ آدمی کے اردگرد ہر وقت کچھ واقعات پیش آرہے ہیں۔ سماجی، تاریخی، کائناتی، ہر سطح پر اور ہر آن ان واقعات کا ظہور ہوتا رہتا ہے۔ ان واقعات کو لے کر سوچنا اور اُن سے عبرت اور نصیحت لینا، یہی روح کی خوراک ہے۔ جو شخص اپنے شعور کو اتنا ترقی دے کہ اُس کو گردو پیش کے واقعات میں خدائی کرشمے دکھائی دیں، جو اُس کے لیے خدا کو یاد دلانے کا ذریعہ بن جائیں تو ایسے شخص نے گویا اپنی روح کے لیے رزق ربانی کا ایک دسترخوان حاصل کر لیا۔ اس کی روح اس دسترخوان سے اپنی صحت مندی کی خوراک حاصل کرتی رہے گی، یہاں تک کہ وہ اپنے رب سے جا ملے۔ تزکیہ کا اہم ترین ذریعہ یہ ہے کہ اپنے اندر عبرت پذیری کے مزاج کو جگایا جائے۔ عبرت پذیری گویا تزکیہ کی زمین ہے۔ یہی وہ زمین ہے جس پر تزکیہ کی فصل اگتی ہے۔ کسی اور جگہ اس کو اگانا ایسا ہی ہے جیسے پتھر کی چٹان پر ایک ہرا بھرا درخت اگانے کی کوشش کرنا۔ تزکیہ کا ذریعہ رزق رب ہے، نہ کہ رزق شیخ۔ تزکیہ اُس عمل کا نتیجہ ہے جو بندہ اور خدا کے درمیان نفسیاتی تعلق کے ذریعے براہِ راست قائم ہوتا ہے، تزکیہ کسی واسطے کے ذریعے نہیں ملتا۔ تزکیہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک خدائی عطیہ ہے، نہ کہ ایک انسانی عطیہ۔ تزکیہ وہ نعمت ہے جو کسی انسان کو براہِ راست خدا سے ملتی ہے۔ کسی انسان کے واسطے سے جو تزکیہ ملے، وہ کچھ اور ہو سکتا ہے، لیکن وہ تزکیہ نہیں ہو سکتا۔ عبادت میں اجتہاد نہیں ایک عالم ایک مشہور صوفی بزرگ کی خانقاہ میں گئے۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ لوگ ذکر بالجہر اور دوسرے صوفیانہ اعمال میں مشغول ہیں ۔ مذکورہ عالم نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے : مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدُّ (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 1718)۔ یعنی جو شخص ہمارے دین میں کوئی نئی بات نکالے، جو اس میں نہ ہو، تو وہ قابلِ رد ہے۔ عالم نے کہا کہ یہ صوفیانہ اعمال جو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page