تزکیۂ نفس
Urdu book, p. 185
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ کے یہاں رائج ہیں، وہ رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں نہیں تھے، اس لیے وہ إحداث (innovation) کا درجہ رکھتے ہیں۔ مذکورہ بزرگ نے جواب دیا کہ حدیث میں ”إحداث فی الأمر“ (دین میں بدعت) کی ممانعت ہے، اُس میں ”إحداث للأمر“ (دین کے لیے بدعت) کی ممانعت نہیں ہے اور تصوف کے یہ طریقے احداث للأمر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مذکورہ حدیث رسول کی یہ توجیہہ غیر جیہہ تو جیہہ ہے، وہ حدیث کے الفاظ سے ہرگز نہیں نکلتی۔ حدیث میں یہ لفظ آیا ہے کہ: ما لیس منہ (جو اُس میں نہ ہو)، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دین چھوڑا ہے، اُس دین میں وہ موجود نہ ہو۔ ایسی حالت میں اصل مسئلہ فی لام کے صلہ (preposition) کا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو دین ہم کو ملا ہے، اس میں بعد کا یہ اضافہ موجود تھا یا موجود نہیں تھا۔ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ ذکر بالجهر جیسی چیزیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چھوڑے ہوئے دین میں موجود نہیں، اور جب وہ رسول اللہ کے چھوڑے ہوئے دین میں موجود نہیں ہیں، تو فی اور لام جیسے نکتوں کے ذریعے اس کو دین محمدی میں شامل کرنا، صرف ایک مبتدعانہ جسارت ہے۔ اس قسم کا نکتہ ایسے اضافوں کے لیے کوئی قابلِ قبول وجہ جواز نہیں۔ علماء کا اتفاقی مسلک ہے کہ عبادات میں قیاس نہیں: لا قياس في العبادات (علم أصول الفقہ لعبد الوہاب خلاف، صفحہ 62)، یعنی تعبدی امور میں صرف تقلید ہے، اس میں کوئی اجتہاد نہیں۔ تعبدی امور میں کوئی استدلال صرف صریح نص پر قائم ہوسکتا ہے، اُس کو لفظی نکتوں کی بنیاد پر قائم نہیں کیا جاسکتا۔ تعبدی امور میں لفظی نکتوں کی بنیاد پر اجتہاد کرنا عقلی اعتبار سے غیر علمی ہے اور دینی اعتبار سے ناقابل قبول جسارت۔ تزکیہ ہر وقت عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ تزکیہ کا ایک وقتی کورس ہے، یا کچھ اذکار و اوراد ہیں جن کو متعین اوقات میں پڑھ لیا جائے، مگر یہ تزکیہ کارسی یا غیر فطری طریقہ ہے اور کوئی بھی چیز اس طرح کے وقتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader