تزکیۂ نفس
Urdu book, p. 187
By Maulana Wahiduddin Khan
مثال کے طور پر ایک شخص نے آپ کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی دی جو آپ کو ناگوار ہوئی۔ آپ کے جذبات بھڑک اٹھے، آپ نے منفی ردعمل کے انداز میں اس کا جواب دیا۔ بعد کو آپ کے اندر ندامت (repentance) پیدا ہوئی۔ آپ نے اپنی روش پر نظر ثانی کی۔ آپ نے سوچا کہ اس طرح میں اپنے اندر ایک منفی شخصیت بنا رہا ہوں۔ ایسی منفی شخصیت موت کے بعد کی زندگی میں میرے لیے سخت تباہ کن ثابت ہوگی، ایسی منفی شخصیت مجھ کو جنت میں داخلے کے لیے نااہل بنا دے گی۔ آپ نے سوچا کہ قرآن کے مطابق، جنت والوں کا کلچر امن کلچر ہوگا۔ وہاں ایسے لوگ آباد کئے جائیں گے جو باہمی زندگی میں امن اور محبت کے ساتھ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ ایسی حالت میں اگر میں نے اپنے اندر ایسی شخصیت بنائی جس کے اندر ٹالرنس (tolerance) نہ ہو، جو اشتعل ہو جانے والی ہو، جس کے اندر دوستانہ روش (friendly-behaviour) کی صلاحیت نہ پائی جاتی ہو، ایسا شخص جنت میں داخلے کے لیے نااہل قرار پائے گا، وہ ابدی طور پر مسرت اور کامیابی سے محروم رہے گا۔ یہ سوچ آپ کے لیے ایک تعمیری دھما کہ ثابت ہوگی۔ آپ خود اپنے نگراں بن جائیں گے۔ آپ کے اندر اپنی اصلاح کا شدید جذ بہ پیدا ہو جائے گا۔ خود احتسابی کا یہی مزاج تزکیہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ تزکیہ ہمیشہ داخلی سوچ کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے، نہ کہ خارجی نوعیت کی کسی کارروائی کے ذریعے ۔ تزکیہ وہ عمل ہے جس میں آدمی خود اپنا نگری ہوتا ہے، وہ خود ہی طالب علم ہوتا ہے اور خود ہی اپنا استاد بھی۔ مبنی بر قلب، مبنی بر دماغ قرآن کی سورہ آل عمران کے آخری رکوع کو پڑھیے ۔ اس رکوع میں اولوالالباب (اہل عقل) کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے زمین و آسمان (کائنات) پر غور کرو۔ اس میں تم اللہ کی نشانیاں دیکھو گے۔ اس کے ذریعہ تم اپنے رب کو پہچانو گے۔ اس کے ذریعہ تم کو خدا کے تخلیقی منصوبہ کا علم ہوگا۔ اس کے ذریعہ تم جنت اور جہنم کو دریافت کرو گے۔ اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader