تزکیۂ نفس
Urdu book, p. 188
By Maulana Wahiduddin Khan
ذریعہ تم کو پیغمبر کی اہمیت معلوم ہوگی۔ غرض وہ تمام چیزیں جس کا تعلق براہ راست یا بالواسطہ طور پر تزکیہ سے ہے، اُن سب کو اس رکوع میں کائناتی تفکر سے وابستہ کیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن کا تزکیہ مبنی برعقل تزکیہ ہے، نہ کہ مبنی بر قلب تزکیہ۔ اس سلسلے میں ’’قلب‘‘ کا لفظ قرآن اور حدیث میں لٹریری معنوں میں استعمال کیا گیا ہے، نہ کہ سائنسی معنوں میں۔ بعد کے زمانے میں، صوفیا کے اثر سے مسلمانوں میں مبنی بر قلب تزکیہ کا تصور رائج ہوگیا۔ اس تصور کے تحت یہ سمجھ لیا گیا کہ انسان کا قلب تمام ربانی حقیقتوں کا خزانہ ہے۔ مراقبہ (meditation) کے ذریعہ اس خزانہ تک پہُنچو، اور پھر تم کو وہ چیز حاصل ہو جائے گی جس کو اسلام میں تزکیہ کہا گیا ہے۔ مگر مبنی بر قلب (heart-based) تزکیہ کا یہ تصور قرآن سے ماخوذ نہ تھا، بلکہ اس کا ماخذ تاریخ تھا۔ قدیم زمانے سے چوں کہ مبنی بر قلب روحانیت (heart-based spirituality) کا تصور لوگوں کے درمیان چلا آرہا تھا، اس کے زیر اثر مباحثات (التوبہ، 9:30) کے طور پر لوگوں نے اس کو اسلام میں داخل کر دیا۔ جدید سائنس نے وہ علمی بنیاد فراہم کر دی ہے جس کے تحت اسلامی تزکیہ کو دوبارہ مبنی بر دماغ تزکیہ کے طور پر زندہ کیا جائے۔ جدید تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انسان کا قلب خون کی گردش (circulation of blood) کے لیے صرف ایک پمپ (pump) کا کام کرتا ہے، قلب کے اندر سوچنے کی صلاحیت موجود نہیں۔ سوچنے کی صلاحیت تمام تر صرف دماغ میں ہے۔ انسان کی زندگی کے تمام افعال سوچنے کے ذریعہ وجود میں آتے ہیں۔ تزکیہ کا معاملہ کوئی مستثنیٰ معاملہ نہیں۔ تزکیہ کا مقصد بھی دماغ کی سطح پر سوچنے کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، نہ کہ قلب پر مفروضہ توجہ دینے سے۔ قلب پر توجہ دینا، اتنا ہی زیادہ بے بنیاد ہے، جتنا کہ حصولِ تزکیہ کے لیے ناخن یا بال پر توجہ دینا۔ رہنما کی ضرورت تزکیہ کا ذریعہ اصولاً یہ ہے کہ آدمی قرآن میں غور کرے، وہ حدیث کا مطالعہ کرے، وہ اصحاب رسول کی زندگیوں سے رہنمائی حاصل کرے۔ یہ تزکیہ کا اصولی ماخذ ہے۔ اس کی یہ حیثیت ابدی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader