تزکیۂ نفس
Urdu book, p. 198
By Maulana Wahiduddin Khan
صرف ایک جھوٹا دعویٰ ہے، مگر یہ بھی درست ہے کہ عبادات کا ظاہری فارم آٹو میٹک طور پر تزکیہ کی روح پیدا نہیں کر سکتا۔ ضمیر رہبر تزکیہ انسان کے اندر فطری طور پر ایک فیکلٹی (faculty) ہے جس کو ضمیر (conscience) کہا جاتا ہے۔ یہ ضمیر ایک خدائی معلم ہے۔ وہ انسان کے لیے رہبر تزکیہ (tazkia guide) کا کام کرتا ہے۔ ضمیر ہر موقع پر خاموش زبان میں انسان کو بتاتا ہے ــــ یہ کرو اور وہ نہ کرو، یہ تزکیہ کے موافق روش ہے اور وہ تزکیہ کے خلاف روش ہے۔ یہ پاکیزہ شخصیت بنانے والی روش ہے اور وہ غیر پاکیزہ شخصیت بنانے والی روش، وغیرہ۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ بیشتر لوگوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ ضمیر ان کے لیے رہبر تزکیہ کا کام نہیں کرتا۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر ضمیر کے ساتھ ایک اور برعکس فیکلٹی موجود ہے۔ یہ ایگو (ego) ہے۔ آدمی اکثر نفس اور شیطان کے زیر اثر آجاتا ہے۔ وہ ضمیر کو اپنا کام کرنے نہیں دیتا۔ ضمیر کی خاموش آواز ہر موقع پر ابھرتی ہے، لیکن ایگو (ego) اس آواز کو دبا کر اس کو بے اثر بنا دیتا ہے۔ طالب تزکیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس حقیقت سے باخبر ہو۔ وہ اپنی قوتِ فکر کو بیدار کرے ۔ وہ ہر موقع پر اپنے ایگو کو زیر کرتا رہے۔ ایگو کو زیر کرتے ہی یہ ہوگا کہ ضمیر اپنا فطری رول ادا کرنے لگے گا اور تزکیہ کے راستے پر آدمی کا سفر بھٹکے بغیر جاری رہے گا۔ ایگو کو زیر کرنے کا یہ کام اس معاملے میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن یہ کام کوئی دوسرا شخص انجام نہیں دے سکتا۔ ہر آدمی کو خود یہ کام کرنا ہے کہ جیسے ہی اس کا ایگو جاگے، وہ فوراً متنبہ ہو جائے اور اپنی قوتِ ارادی (willpower) کو استعمال کرتے ہوئے اپنے ایگو کو زیر کر دے۔ تزکیہ کا طریقہ کچھ لوگوں نے تزکیہ کے مختلف طریقے بیان کرنے کی کوشش کی۔ اس ذیل میں انھوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader