Urdu book · کتابِ معرفت

تزکیۂ نفس

Urdu book, p. 197

By Maulana Wahiduddin Khan

تمام مطلوب چیزیں عطا کردے۔ اس قسم کی ایک دعا ہمیشہ ایک نفسیاتی طوفان کے بعد کسی آدمی کی زبان سے نکلتی ہے۔ اسی نفسیاتی واقعہ کا دوسرا نام تزکیہ ہے۔ تزکیہ اور دعا دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ جہاں تزکیہ کا واقعہ ہوگا، وہاں دعا بھی لازماً ظاہر ہوگی، اور جب دعا کا ظہور ہو تو وہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ اس سے پہلے آدمی کے اندر تزکیہ کا واقعہ پیش آچکا ہے۔ تزکیہ کے بغیر دعا نہیں، اور دعا کے بغیر تزکیہ نہیں۔ تزکیہ کا ظاہری فارم تزکیہ کا کوئی ظاہری فارم نہیں۔ اگر تزکیہ کا ظاہری فارم ہو تو اس کو پورا کر کے آدمی شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لے گا کہ میں نے اپنا تزکیہ کر لیا۔ اس طرح اس کے اندر قناعت (contentment) کا مزاج پیدا ہو جائے گا۔ حالاں کہ اس معاملے میں قناعت کا مزاج تزکیہ کے لیے ایک قاتل جذبہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ تزکیہ کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر مسلسل طور پر عدم قناعت (discontent) کا احساس پایا جاتا ہو۔ عدم قناعت کا جذبہ تزکیہ کے عمل کو مسلسل طور پر جاری رکھنے کا باعث ہے، جب کہ قناعت کی نفسیات میں اس قسم کے تسلسل کا محرک ہی ختم ہو جاتا ہے۔ تزکیہ کا گہرا تعلق عبادات کے مقرر نظام سے ہے۔ تزکیہ اور اسلامی عبادات دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ کوئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرا تزکیہ مکمل ہو چکا ہے اور اب مجھے عبادات کی ضرورت نہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ عبادات کی ظاہری ادائیگی سے اپنے آپ تزکیہ کا مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔ ایسا سمجھنا ایک غیر فطری بات ہے۔ صحیح یہ ہے کہ عبادات روح تزکیہ کا خارجی ظہور ہیں، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، تزکیہ کا وسیلہ نہیں۔ اگر کسی شخص کے اندر تزکیہ کی روح حقیقی طور پر پیدا ہو جائے تو لازمی طور پر ایسا ہو گا کہ وہ خدا کا عبادت گزار بن جائے گا۔ عبادت گزاری کو تزکیہ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے سارا زور روح تزکیہ کے تحقق پر دینا چاہیے، نہ کہ صرف عبادات کے ظاہری فارم پر۔ یہ درست ہے کہ عبادات کے بغیر تزکیہ کا دعویٰ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page