تزکیۂ نفس
Urdu book, p. 200
By Maulana Wahiduddin Khan
لیکن تزکیہ کا زیادہ مؤثر طریقہ یہ ہے کہ اس کو کسی پیش آمدہ صورت حال سے وابستہ (relate) کر کے بتایا جائے۔ اس دوسرے طریقے کی ایک صورت یہ ہے کہ اس کے لیے ایک زندہ مربی یا مرشد کی موجودگی ہو۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آدمی خود اپنے شعور کو اتنا زیادہ ترقی یافتہ بنائے کہ وہ خود ہی ہر تجربہ اور ہر مشاہدہ میں تزکیہ کا پہلو دریافت کرے اور اس کو اپنے ذہن کا جزو بناتے۔ حضرت ابو ذر ایک صحابی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر ایک چڑیا کو ہوا میں اپنے پروں سے اڑتے ہوئے دیکھتے تو اس سے آپ ہمیں کوئی معرفت کی یاد دہانی کراتے : وَمَا يَحْرُكُ طَائِرٌ جَنَاحَيْهِ فِي السَّمَاءِ إِلَّا أَذْكَرَ نَامِنْهُ عِلْمًا (مسند احمد، حدیث نمبر 21361)۔ یہ پیش آمدہ صورت حال کے حوالے سے تزکیہ کی تعلیم دینے کی ایک مثال ہے۔ تزکیہ کا کوئی مجرد طریقہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی مجرد طریقہ تزکیہ کا مؤثر ذریعہ نہیں بن سکتا۔ تزکیہ کا مؤثر طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو اتنا زیادہ باشعور بنائے کہ اس کے اندر توسم (الحجر، 15:75) کی صفت پیدا ہو جائے۔ وہ پیش آمدہ واقعات کو تزکیہ سے وابستہ (relate) کر کے اُس سے ربانی سبق لے سکے۔ تزکیہ کا مواد روزمرہ کے تجربات میں ہوتا ہے۔ روزمرہ کے تجربات کو تزکیہ کی نظر سے دیکھنا سیکھیے، اس کے بعد ہر تجربہ اور ہر مشاہدہ آپ کے لیے تزکیہ کا ذریعہ بن جائے گا۔ تزکیہ کا وسیلہ تزکیہ کا وسیلہ کیا ہے۔ روایتی طور پر کچھ چیزوں کو تزکیہ کا وسیلہ سمجھا جاتا ہے نوافل، تلاوت، مسنون اذکار، مراقبہ، صحبت، بزرگوں کے واقعات، وغیرہ۔ اس سوچ کا مطلب تزکیہ کو ایک مقرر کورس یا مینوئل (manual) جیسا معاملہ سمجھنا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ کا کوئی متعین کورس نہیں۔ تزکیہ ایک زندہ واقعہ ہے، اور زندہ عمل ہی کے ذریعے اس کو حقیقی طور پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ تزکیہ کے مقصد کو حاصل کرنے کا اصل ذریعہ یہ ہے کہ آدمی خدائی باتوں میں تدبر کرے، وہ اپنی سوچ کو متحرک کرے، وہ مسلسل غور و فکر کے ذریعے ہر ظاہر میں اس کے باطن کو دریافت کرے۔ یہی دریافت تزکیہ پسند آدمی کی غذا ہے۔ مثلاً آپ نے ایک چڑیا کو دیکھا۔ چڑیا کو دیکھ کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader