تزکیۂ نفس
Urdu book, p. 201
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ کو یہ حدیثِ رسول یاد آئی کہ اہلِ جنت کے دل چڑیا کے مانند ہوں گے (يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَقْوَامٌ، أَفْئِدَتُهُمْ مِثْلُ أَفْئِدَةِ الطَّيْرِ) صحیح مسلم، حدیث نمبر 2840۔ اس کے بعد آپ اپنے بارے میں غور کرنے لگے کہ کیا میرا دل بھی چڑیا کے مانند ہے، کیا میں بھی اسی طرح منفی سوچ سے خالی ہوں جس طرح چڑیا کا دل منفی سوچ سے خالی ہوتا ہے، کیا میں بھی اسی طرح حرص سے پاک ہوں جس طرح چڑیا حرص سے پاک ہوتی ہے، کیا میں بھی اسی طرح بے ضرر(harmless) ہوں جس طرح چڑیا بے ضرر رہتی ہے، کیا میں بھی اسی طرح قانونِ فطرت کی پیروی کرتا ہوں جس طرح چڑیا قانون فطرت کی پیروی کرتی ہے۔ یہی سوچ، تزکیہ کی اصل روح ہے۔ اس قسم کی احتسابی سوچ کے بغیر کسی شخص کا تزکیہ نہیں ہوسکتا۔ تزکیہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اپنی تعمیر آپ کا ایک عمل ہے۔ تزکیہ میں آدمی کو خود اپنا مزکیٰ اور معلم بننا پڑتا ہے۔ کسی دوسرے شخص کی صحبت یا کسی دوسرے شخص کی تبلیغ بذاتِ خود کسی کے لیے مؤثر نہیں بن سکتی۔ دوسرا کوئی شخص آپ کو ابتدائی رہنمائی دے سکتا ہے، لیکن اس رہنمائی کو تکمیل تک پہنچانا، آپ کا اپنا کام ہے۔ تزکیہ کے عمل میں کسی دوسرے شخص کا حصہ اگر ایک فی صد ہے تو آپ کا اپنا حصہ ننانوے فی صد۔ تزکیہ ذہنی ارتقا تزکیہ کے اصل معنی تطہیر (purification) کے ہیں۔ اسی سے اس میں ایک اور مفہوم شامل ہوا ہے اور وہ بڑھنا یا نمو (growth) ہے۔ اس اعتبار سے، یہ کہنا درست ہوگا کہ تزکیہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو ذہنی ارتقا (intellectual development) یا روحانی ارتقا کہا جاتا ہے۔ ذہن (mind) کوئی جامد چیز نہیں، وہ ایک نمو پذیر چیز ہے۔ وہ درخت کی طرح مسلسل بڑھتا رہتا ہے۔ اسی عمل کو قرآن میں ازدیادِ ایمان (48:4) کہا گیا ہے۔ ازدیادِ ایمان سے مراد ازدیادِ شعور ہے، اور ازدیادِ شعور ہی کا دوسرا نام ذہنی ارتقا ہے۔ حقیقی ایمان وہی ہے جو کبھی جمود (stagnation) کا شکار نہ ہو، جو یقین اور ایمان باللہ کے اعتبار سے مسلسل بڑھتا رہتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader