تزکیۂ نفس
Urdu book, p. 203
By Maulana Wahiduddin Khan
مطالعہ آدمی کے اندر سوچنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔ مطالعہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ زیادہ گہرے انداز میں چیزوں سے معرفت کی غذا لے سکے۔ مثلاً ہر آدمی ہوا میں سانس لیتا ہے۔ ہر آدمی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اس پر اللہ کا شکر ادا کرے، لیکن جو شخص نظام تنفس (respiratory system) کے بارے میں دریافت کردہ جدید معلومات کو جانتا ہو، اس کا شکر ہزاروں گنا زیادہ بڑھ جائے گا، اور اسی کے اعتبار سے اس کا تزکیہ بھی بہت زیادہ ترقی کرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ علم آدمی کے تزکیہ کو زیادہ بڑا فریم ورک (framework) دیتا ہے۔ علم سے آدمی کو اپنے تزکیہ میں اضافے کے نئے گوشے معلوم ہوتے ہیں۔ تزکیہ کے لیے علم ایک قسم کے بوسٹر(booster) کا درجہ رکھتا ہے۔ ڈسٹریکشن سے بچے اس دنیا میں کامیابی کا ایک اصول یہ ہے ایک کام کو کرنے کے لیے دوسرے کام کو چھوڑنا۔ یہ انسانی نفسیات کا ایک خاصہ ہے کہ آدمی ایک ہی وقت میں دو چیزوں پر یکساں فوکس (focus) نہیں کر سکتا۔ وہ ایک چیز پر فوکس کرے گا تو دوسری چیز سے اس کا ذہن ہٹ جائے گا۔ یہی اصول تزکیہ کے لیے بھی درست ہے۔ جو آدمی اپنا تزکیہ کرنا چاہتا ہو، اس کو لازمی طور پر یہ بھی کرنا ہوگا کہ وہ تزکیہ کی نسبت سے غیر متعلق (irrelevant) چیزوں کو مکمل طور پر چھوڑ دے۔ تزکیہ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ڈسٹریکشن (distraction) ہے۔ تزکیہ کے طالب کے لیے ضروری ہے کہ وہ تزکیہ کو اپنا واحد نشانہ (supreme goal) بنائے، وہ ڈسٹریکشن کی تمام چیزوں سے مکمل طور پر اپنے آپ کو دور رکھے۔ تزکیہ کے لیے ذہنی یکسوئی یا ترکیز (concentration) لازمی طور پر ضروری ہے۔ جس آدمی کے اندر ترکیز کی صلاحیت نہ ہو، وہ یقینی طور پر تزکیہ کے حصول سے محروم رہے گا۔ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے، اور تزکیہ کی بھی ایک قیمت ہے۔ وہ قیمت ہے ہی ہر قسم کے ڈسٹریکشن سے اپنے آپ کو دور رکھنا۔ مثلاً خاندانی رسومات، دوستی کا کلچر، کھانے اور کپڑے کا شوق،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader