تزکیۂ نفس
Urdu book, p. 202
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ تزکیہ یا شعوری اضافہ کس طرح ہوتا ہے۔ اس کا ذریعہ غور و فکر (contemplation) ہے۔ یہ غور و فکر اپنے آپ میں ایک مسلسل عمل ہے بی قرآن اور حدیث میں غور و فکر، سیرتِ رسول میں غور و فکر، صحابہ کی زندگی میں غور و فکر، دوسرے موضوعاتِ انسانی پر غور و فکر، کائنات پر غور و فکر، غرض ذرہ سے لے کر آفتاب تک ہر چیز پر غور و فکر۔ اس کے علاوہ، سنجیدہ مذاکرات کے دوران غور و فکر۔ اس غور و فکر کے درمیان ایسا ہوتا ہے کہ ذہن میں نئے نئے خیالات آتے ہیں، معلوم باتوں کی نئی نئی توجیہات سمجھ میں آتی ہیں، واقعات و حقائق کے نئے نئے رخ علم میں آتے ہیں، وغیرہ۔ جس آدمی کو سچا ایمان حاصل ہو، اس کا حال یہ ہوگا کہ ہر مطالعہ اور مشاہدہ اس کے لیے ربانی دریافت کا سبب بنتا رہے گا، ہر تجربہ اس کے لیے خدا سے قربت کا ذریعہ بن جائے گا۔ اُس کا ایمان ابتداء اگر ایک بیج تھا تو اس طرح بڑھتے بڑھتے وہ ایک پورا درخت بن جائے گا۔ اسی فکری اور روحانی عمل کا اسلامی نام تزکیہ ہے بی ایمان اگر اسلام میں داخلے کا عنوان ہے، تو تزکیہ ایمان کے ارتقا کا عنوان۔ تزکیہ اور علم تزکیہ کے لیے ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ کسی صاحبِ کمال کی صحبت حاصل کی جائے، کیوں کہ صاحبِ کمال کی ایک نظر انسان کو بدلنے کے لیے کافی ہوتی ہے، لیکن یہ نقطہ نظر قرآن اور حدیث سے ثابت نہیں۔ قرآن اور حدیث کے مطابق، تزکیہ کا مقصد آدمی کے خود اپنے غور و فکر سے حاصل ہوتا ہے۔ آدمی کے اندر صحیح مزاج ہو اور وہ کتابوں کا، نیز فطرت کا مطالعہ کرے تو اُس سے وہ ایسے معانی اخذ کرے گا جو اس کی شخصیت کا تزکیہ کرنے والے ہوں۔ قرآن کی سورہ فاطر میں پہاڑوں کا تذکرہ کرنے کے بعد یہ آیت آئی ہے: اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَاء (35:28)۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ پہاڑوں کا علم یا واقعاتِ فطرت کا علم آدمی کے اندر اللہ کا خوف پیدا کرتا ہے، یعنی خوف کا ماخذ علم (learning) ہے۔ آدمی کے اندر جتنا زیادہ علم ہوگا، اتنا ہی زیادہ وہ اللہ کی تخلیقی حکمتوں کو سمجھے گا اور اس طرح وہ اپنی معرفت میں اضافہ کرے گا۔ تزکیہ کسی آدمی کو ذاتی علم کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے، نہ کہ مفروضہ با کمال کی نظر اور توجہ سے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader