تزکیۂ نفس
Urdu book, p. 205
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ اس بات کو بتانے کے لیے لفظ بدل دیا جائے اور یہ کہا جائے کہ ہر انسان مختلف اسباب سے متاثر ذہن (conditioned mind) کا کیس بن جاتا ہے۔ اس کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ اس کی ڈی کنڈیشنگ کی جائے، اس کے ذہن کی تشکیلِ نو (re-engineering) کر کے اس کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ چیزوں کو اُن کی اصل حقیقت کے اعتبار سے دیکھے اور زیادہ درست طور پر ان کے بارے میں رائے قائم کرے۔ اِس اسلوبِ تزکیہ پر لوگوں کو مخاطب کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مزیٰ کا مطالعہ وسیع ہو، وہ قدیم کے ساتھ جدید باتو ں سے واقفیت رکھتا ہو۔ اِس کے بغیر مؤثر انداز میں جدید انسان کا تزکیہ نہیں کیا جاسکتا۔ تزکیہ کی شرط تزکیہ کوئی فنِ علم نہیں۔ فنی علم کو لفظوں میں پوری طرح بیان کیا جاسکتا ہے، لیکن تزکیہ معرفت کا علم ہے اور معرفت کے علم کو الفاظ میں صرف جزئی طور پر بیان کرنا ممکن ہے، نہ کہ کلی طور پر۔ تزکیہ کی ہر تحریر یا تحریر ایک اور اضافہ چاہتی ہے، اور یہ اضافہ صرف وہ شخص کر سکتا ہے جو تزکیہ کا طالب ہو۔ تزکیہ کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ طالبِ تزکیہ اِس معاملے میں انتہائی حد تک سنجیدہ ہو، وہ ایک تیار ذہن (prepared mind) کی حیثیت رکھتا ہو، اُس کے اندر کامل آمادگی پائی جاتی ہو، وہ ہر قسم کے تعصّبات (prejudice) سے خالی ہو، وہ ایک کا مپلکس فری (complex free) انسان ہو، وہ چیزوں کو اُسی طرح دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو، جیسا کہ وہ واقعہ ہے۔ وہ ذاتی رجحانات کو الگ کر کے چیزوں کو دیکھ سکے، وہ اپنے خلاف باتوں کو بھی اُسی طرح سنے، جس طرح وہ اپنے موافق باتوں کو سنتا ہے، وہ کسی شرط کے بغیر حق کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو، وہ کھلے طور پر اپنی غلطی کو ماننے کا مزاج رکھتا ہو، وہ درست زاویہ نظر (right angle of vision) سے چیزوں کو دیکھ سکے، وغیرہ۔ تزکیہ کے عمل میں دو افراد شامل ہوتے ہیں معلمِ تزکیہ، اور طالبِ تزکیہ۔ دونوں میں سے کسی کا رول بھی صد فی صد نہیں، اِس معاملے میں دونوں کا رول ففٹی ففٹی ہے۔ معلمِ تزکیہ کا رول یہ ہے کہ وہ تزکیہ کو حقیقی طور پر جانتا ہو، اس نے قرآن اور حدیث کے گہرے مطالعے کے ذریعے تزکیہ کو درست

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader