Urdu book · کتابِ معرفت

تزکیۂ نفس

Urdu book, p. 206

By Maulana Wahiduddin Khan

طور پر سمجھا ہو اور پھر وہ اس کو اس کے خالص انداز میں بیان کر سکے۔ اس معاملے میں دوسرا نصف رول طالب تزکیہ کا ہے۔ تزکیہ کے طالب کے اندر یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ بھر پور طور پر قبولیت کی استعداد رکھتا ہو۔ وہ اپنے مانوس ذہن سے باہر آکر تزکیہ کے کلام کو سنے اور اس کو سمجھے۔ وہ پیشگی طور پر قائم کردہ معیار سے آزاد ہو، وہ یہ صلاحیت رکھتا ہو کہ وہ کلام کی نسبت سے اپنی رائے قائم کرے، نہ کہ متکلم کی نسبت سے۔ جس آدمی کے اندر یہ صفات موجود ہوں، وہی وہ شخص ہے جو تزکیہ کے مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ اعتراف حقیقت اعلی انسانیت یہ ہے کہ آدمی حقیقت واقعہ کا اعتراف کرے۔ کسی انسان کے لیے اصل چیز یہی ہے ۔ اکتشاف حقیقت (discovery of reality) کا نتیجہ اعتراف (acknowledgement) ہے۔ آدمی اگر حقیقت واقعہ سے بے خبر ہو تو وہ ایک جاہل (ignorant) انسان شمار ہوگا۔ حقیقت واقعہ کی دریافت کے بعد اگر کسی شخص کا حال یہ ہو کہ وہ اس کو دل کے اندر تو محسوس کرے، لیکن زبان سے بول کر وہ اس کا اعلان نہ کرے تو یہ روش منافققت کی روش ہے۔ اور اگر ایسا ہو کہ حقیقت واقعہ کی دریافت کے بعد وہ اس کو اصل ہستی کے بجائے کسی اور سے منسوب کردے، یا وہ خود اس کا کریڈٹ لینے لگے تو ایسا آدمی جھوٹ (falsehood) پر کھڑا ہوا ہے۔ یہ عمل کوئی سادہ عمل نہیں۔ یہ دراصل صحیح رخ پر انسانی شخصیت کا ارتقا ہے اور اسی کا دوسرا نام تزکیہ ہے۔ تزکیہ کسی پراسرار چیز کا نام نہیں ہے۔ تزکیہ اس شعوری بیداری کا نتیجہ ہے کہ آدمی ہر چیز کو خدا کے خانے میں ڈال سکے، ہر تجربہ اس کے لیے خدا سے تعلق بڑھانے کا ذریعہ بن جائے۔ انھیں تجربات کے دوران وہ اعلیٰ شخصیت بنتی ہے جس کو مزکی شخصیت (purified personality) کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سارا معاملہ صحیح انتساب (right attribution) اور غلط انتساب (wrong attribution) کا معاملہ ہے۔ واقعات کو غلط طور پر کسی سے منسوب کرنا، اپنی روح کو آلودہ کرنا ہے، یہ تزکیہ کے موقع پر اپنے آپ کو تزکیہ سے محروم کر لینا ہے۔ اس کے برعکس، جب آدمی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page