تزکیۂ نفس
Urdu book, p. 207
By Maulana Wahiduddin Khan
واقعات کو خالق حقیقی کی طرف منسوب کرے تو اُس نے اپنی روح کو اوپر اٹھایا۔ تزکیہ کے موقع کو استعمال کرتے ہوئے اس نے اپنے آپ کو وہ انسان بنایا جس کو تزکیہ یافتہ انسان کہا جاتا ہے۔ تزکیہ کسی خلا میں نہیں ہوتا، تزکیہ ہمیشہ حقیقی زندگی میں ہوتا ہے۔ تزکیہ کے لیے جو چیز مطلوب ہے، وہ بیدار ذہن (awakenedmind) ہے، نہ کہ تخلیہ میں کیے ہوئے کسی قسم کے پُر اسرار اعمال۔ تزکیہ اور قربانی تزکیہ کا حصول کوئی سادہ بات نہیں۔ تزکیہ کے حصول کے لیے ہمیشہ ایک قربانی درکار ہوتی ہے، جسمانی قربانی نہیں، بلکہ نفسیاتی قربانی۔ وہ قربانی ہے تزکیہ کے حصول کی خاطر خلاف تزکیہ باتوں کو مکمل طور پر چھوڑ دینا۔ یہ فطرت کا ایک اصول ہے کہ ایک چیز کو پانے کے لیے دوسری چیز کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ یہ اصول تزکیہ کے معاملے میں بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ دوسرے معاملات میں۔ اُنھیں میں سے ایک چیز ہے غلط عادتوں (bad habits) کو چھوڑنا۔ ہر عورت اور مرد اپنے ماحول کے اثر سے ایسی چیز کے عادی ہو جاتے ہیں جو تزکیہ کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ تزکیہ کے طالب کے لیے لازم ہے کہ وہ ایسی عادتوں کو مکمل طور پر چھوڑ دے۔ مثلاً زیادہ بولنا اور کم سوچنا، خاندانی تقاضوں میں مشغول رہنا، کھانے اور کپڑے کا شوقین ہونا، تفریحی مجلسوں میں بیٹھنا، دوسروں کی کمیوں کا چرچا کرنا، شاپنگ اور آؤٹنگ، کفایت شعاری کے بجائے فضول خرچی، سطحی اور نمائش ذوق، تنقید کو برا ماننا اور تعریف پر خوش ہونا، دنیوی چیزوں کا حریص ہونا، ضرورت پر قناعت نہ کرنا، سادگی (simplicity) کے بجائے تکلف کو پسند کرنا، وغیرہ۔ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے اور تزکیہ کو پانے کی بھی ایک قیمت ہے، اور وہ قیمت ہے بی خلاف تزکیہ باتوں کو چھوڑنا۔ جو آدمی تزکیہ کی باتیں کرے، لیکن وہ خلاف تزکیہ باتوں کو چھوڑنے پر راضی نہ ہو، ایسا آدمی بلاشبہ ایک غیر سنجیدہ انسان ہے، اور غیر سنجیدہ مزاج کے ساتھ کبھی تزکیہ جمع نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی تزکیہ کی طلب میں سنجیدہ ہو، وہ خود ہی یہ جان لے گا کہ کیا چیزیں تزکیہ کے موافق ہیں اور کیا چیزیں تزکیہ کے خلاف۔ اس کی سنجیدگی لازمی طور پر اس کو مجبور کرے گی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader