Urdu book · کتابِ معرفت

تزکیۂ نفس

Urdu book, p. 210

By Maulana Wahiduddin Khan

تزکیہ کی اصل محاسبہ حضرت عمر فاروق کا ایک قول ہے: حَاسِبُوۡا اَنۡفُسَکُمۡ قَبۡلَ اَنۡ تُحَاسَبُوۡا (الترمذی، حدیث نمبر 2459) یعنی اپنا محاسبہ کرلو، اس سے پہلے کہ تمھارا محاسبہ کیا جائے۔ یہی محاسبہ تزکیہ کی اصل ہے۔ تزکیہ کسی تربیتی کیمپ کے ذریعے نہیں ہوتا۔ تزکیہ درس وتدریس کے ذریعے نہیں ہوتا۔ تزکیہ کسی قسم کے اعمال واشغال کے ذریعے بھی نہیں ہوتا۔ تزکیہ کا واحد ذریعہ محاسبہ ہے، یعنی اپنا احتساب (introspection) کرنا، خود اپنا نگر اں بن جانا، اپنے بارے میں سوچ سوچ کر خود اپنی اصلاح کرنا۔ انسان واحد مخلوق ہے جو سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انسان کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ انسان تصوراتی فکر (conceptual thought) رکھنے والا حیوان ہے۔ آپ ایک لکڑی کو گڑھ سکتے ہیں، آپ لوہے کو مولڈ کر سکتے ہیں، لیکن انسان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنا مالک آپ ہے۔ وہ اپنی تشکیل آپ کرتا ہے۔ انسان اگر خود نہ چاہے تو کوئی دوسرا شخص اس کی شخصیت سازی نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کے تزکیہ یا اس کی شخصیت سازی میں تمام تر دخل ذاتی محاسبہ کا ہے۔ مربی یا مزکی کا کام صرف یہ ہے کہ وہ انسان کے اندر ذاتی محاسبہ کا طاقت ور محرک (incentive) پیدا کردے، وہ انسان کے اندر یہ طرز فکر پیدا کردے کہ اگر میں نے اپنا تزکیہ نہ کیا تو میں ہلاک ہوجاؤں گا، اگر میں نے اپنی اصلاح نہ کی تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ میں ہمیشہ کے لیے برباد ہو کر رہ جاؤں گا۔ مجھے اپنا تزکیہ خود کرنا ہے اور مجھے جو کچھ کرنا ہے وہ آج کرنا ہے، کیوں کہ کل کبھی آنے والا نہیں۔ انسان کا یہ مزاج ہے کہ وہ اپنی ہر غلطی کی توجیہہ (justification) تلاش کر لیتا ہے، اس کو ہمیشہ اپنے آپ کو درست ثابت کرنے کے لیے کچھ الفاظ مل جاتے ہیں۔ تزکیہ کے لیے ضروری ہے کہ انسان کے اس مزاج کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ مگر اس مزاج کا خاتمہ انسان کے خود اپنے اختیار میں ہے، وہ کسی بھی دوسرے شخص کے اختیار میں نہیں۔ محاسبہ کیسے تزکیہ کا اصل ذریعہ ذاتی محاسبہ (self introspection) ہے، یعنی اپنے بارے میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page