Urdu book · کتابِ معرفت

تزکیۂ نفس

Urdu book, p. 211

By Maulana Wahiduddin Khan

سوچنا، اپنے قول و عمل کا تجزیہ (analysis) کرنا، دوسرے لفظوں میں، محاسبہ یہ ہے کہ آدمی اپنا آپ بن جائے، وہ اپنے خلاف سوچے اور اپنے بارے میں انتہائی بے لاگ انداز میں رائے قائم کرے ۔ اسی کا نام احتساب یا محاسبہ ہے، اور اس قسم کے محاسبہ کے بغیر کسی کا تزکیہ نہیں ہو سکتا۔ انسان کے اندر سب سے زیادہ طاقت ور جذبہ انا (ego) کا جذبہ ہے۔ یہ جذبہ اتنا زیادہ شدید ہے کہ ہر آدمی شعوری یا غیر شعوری طور پر آنا ولاغیری (میں، میرے سوا کوئی نہیں) کی نفسیات میں جیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر بہت جلد خود فکری (self-thinking) کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے، یعنی خود پسندی کی نفسیات۔ اس قسم کی نفسیات تزکیہ کی قاتل ہے۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی کے اندر اینٹی سیلف سوچ (anti-self thinking) پیدا ہو۔ وہ اپنے خلاف سوچے اور اپنے خلاف سن سکے۔ عمر بن الخطاب کے اندر یہ جذبہ اتنا زیادہ شدید تھا کہ انھوں نے کہا خدا اُس انسان پر رحم کرے جو مجھے میرے عیب کا تحفہ بھیجے (رَحِمَ اللَّهُ مَنْ أَهْدَى إِلَيَّ عُيُوبِي) سنن الدارمی، اثر نمبر 675 محاسبہ کا یہ مزاج ایک دریافت سے پیدا ہوتا ہے، اور وہ ہے اپنے عجز (helplessness) کی دریافت۔ تزکیہ کے طالب کو چاہیے کہ وہ دریافت کے درجے میں اس حقیقت کو جانے کہ اس کا احساس میں (sense of I) صرف احساس کی حد تک محدود ہے۔ اپنے احساس کے باہر کسی بھی چیز پر اس کو کوئی اختیار نہیں، اپنے وجود کو باقی رکھنے پر اس کو کوئی اختیار نہیں، موت کے معاملے میں اس کو کوئی اختیار نہیں، لائف سپورٹ سسٹم (life support system) پر اس کو کوئی اختیار نہیں، آخرت کی عدالت میں اس کو کوئی اختیار نہیں، وغیرہ۔ جب کوئی آدمی اپنی اِس کامل بے اختیاری کو دریافت کرتا ہے تو اس کے اندر لازمی طور پر عجز کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، اور یہی عجز کا احساس آدمی کو اپنا محاسبہ آپ کرنے پر مجبور کر دیتا ہے ہی اسی دریافت میں تزکیہ کا اصل راز چھپا ہوا ہے۔ پرچہ آؤٹ تزکیہ کے سچے طالب کے لیے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس کو خدا کی طرف سے خواب دکھایا جاتا ہے۔ اس خواب میں اس کو واضح رہنمائی دی جاتی ہے کہ اس کو آگے مزید کیا کرنا چاہیے۔ اس طرح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page