تزکیۂ نفس
Urdu book, p. 215
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی معاملہ شدید تر انداز میں آخرت کی دنیا کا ہے۔ آخرت کی دنیا نہایت اعلیٰ قسم کی ربانی سرگرمیوں کی دنیا ہے۔ آخرت کی دنیا میں وہی شخص کامیاب ہوگا جو موجودہ دنیا میں اس کے مطابق تیاری کرے، جو موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو روحانی اعتبار سے ایک تیار انسان ( spiritually prepared person ) بنائے۔ جو آدمی موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو اس پہلو سے تیار نہ کر سکے، وہ آخرت میں ایک ناکام انسان بن کر رہ جائے گا۔ یہ سارا معاملہ لیاقت (competence) کا معاملہ ہے۔ ایک قسم کی لیاقت دنیا میں کام آتی ہے اور دوسری قسم کی لیاقت آخرت میں کام آئے گی بی دنیا میں بظاہر شرک کام آتا ہے۔ آخرت میں توحید کام آئے گی۔ دنیا میں اپنے آپ کو کنسرن (concern) بنانا کام آتا ہے، آخرت میں خدا کو کنسرن بنانا کام آئے گا۔ دنیا میں چیزوں کو مادی اینگل (material angle) سے دیکھنا کام آتا ہے، آخرت میں چیزوں کو اسپرچول اینگل سے دیکھنا کام آئے گا۔ دنیا میں مفاد پرستی کام آتی ہے، آخرت میں وہ شخص کامیاب ہوگا جو اپنے آپ کو ایک اصول پسند انسان ثابت کرے۔ دنیا میں بظاہر بددیانتی (dishonesty) کام آتی ہے، آخرت میں دیانت داری (honesty) کام آئے گی۔ دنیا میں حب عاجلہ (immediate interest) کا مزاج کام آتا ہے، آخرت میں وہ شخص کامیاب ہوگا جس نے حب آخرت کی بنیاد پر اپنی زندگی کی تعمیر کی ہو۔ تزکیہ کا مطلب اپنے آپ کو آخرت کے اعتبار سے تیار کرنا ہے، یعنی اپنے اندر وہ اوصاف پیدا کرنا جو موت کے بعد آنے والی دنیا میں آدمی کے کام آئیں۔ تزکیہ کا آئٹم تلاش کرنا تزکیہ کا وسیلہ اپنی سوچ کو متحرک کرنا ہے۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنی زندگی کے اُن واقعات کو یاد کریں جب کہ آپ کسی بڑی مصیبت میں پھنسنے والے تھے، مگر اللہ نے اپنی خصوصی مدد سے آپ کو اُس سے بچا لیا۔ ایسے حادثات اور واقعات ہر آدمی کی زندگی میں ہوتے ہیں، مگر بعد کو آدمی ان حادثات اور واقعات کو بھول جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader