Urdu book · کتابِ معرفت

تزکیۂ نفس

Urdu book, p. 216

By Maulana Wahiduddin Khan

تزکیہ کے طالب کو چاہیے کہ وہ بار بار سوچ کر ایسے واقعات کو اپنے ذہن میں تازہ کرے جب کہ وہ تباہی کے عین کنارے پر پہنچ چکا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے خصوصی مداخلت کرکے اس کو بچالیا۔ ان واقعات کو وہ شدت کے ساتھ یاد کرے اور پھر کہے کہ خدایا، تو نے مجھے دنیا کی زندگی میں بار بار بھیانک انجام سے بچالیا۔ اسی طرح تو مجھے آخرت میں جہنم کے ہولناک عذاب سے بچالے۔ اسی طرح اس معاملے کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ اپنی کوتاہیوں کو یاد کرکے اپنے اندر احساسِ خطا کو بیدار کریں۔ کسی معاملے میں اگر آپ محسوس کریں کہ آپ 99 فی صد درست تھے، صرف ایک فی صد آپ غلط تھے، تو ایسے موقع پر آپ یہ کریں کہ 99 فی صد کو بھلا دیں اور ایک فی صد کو اتنا زیادہ بڑھائیں کہ آپ کو محسوس ہو کہ گویا ساری غلطی آپ ہی کی تھی۔ اس طرح آپ کے اندر احساسِ خطا جاگے گا۔ آپ خوفِ خدا سے کانپ اٹھیں گے، آپ شدتِ انابت کے ساتھ اللہ سے توبہ کی درخواست کرنے لگیں گے۔ تزکیہ کوئی پراسرار چیز نہیں، تزکیہ کا ایک معلوم پراسس ہے، اور وہ ہے بار بار تزکیہ سے تعلق رکھنے والے پہلوؤں پر سوچنا۔ تزکیہ ہمیشہ شعوری بیداری کا نتیجہ ہوتا ہے، نہ کہ کسی پراسرار کرشمہ کا نتیجہ۔ کوئی شخص جتنا زیادہ اس معاملے میں سوچے گا، اتنا ہی زیادہ اس کا تزکیہ ہوگا۔ تزکیہ پورے معنوں میں ایک شعوری عمل ہے۔ اس شعوری عمل کے بغیر تزکیہ کو پانے کی امید رکھنا صرف ایک خوش خیالی (wishful thinking) ہے جو کبھی واقعہ بننے والی نہیں۔ تزکیہ ذریعۂ قربت انسان مخلوق ہے اور خدا اس کا خالق ہے۔ اس لحاظ سے انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ اپنے خالق سے آخری حد تک قریب ہو، مگر مختلف چیزیں انسان کو خدا سے دور کردیتی ہیں۔ مثلاً فخر، منفی سوچ، وغیرہ۔ تزکیہ کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو اس قسم کے منفی جذبات سے مکمل طور پر پاک کیا جائے_ آدمی جیسے ہی اپنے آپ کو اس قسم کے غیر ربانی جذبات سے پاک کرتا ہے، اچانک وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے خالق سے آخری حد تک قریب ہو گیا ہے۔ وہ اپنے آس پاس خدا کی موجودگی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page