Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

عضو (thinking organ) ہے، مگر یہ صرف ایک مغالطہ ہے۔ اس دعوے کی بنیاد یہ ہے کہ عضو یاتی مطالعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قلب اور عقل کے درمیان ایک رابطہ موجود ہے۔ مگر یہ دعویٰ صرف ایک مغالطے پر مبنی ہے۔ اس قسم کا ربط دماغ اور دوسرے تمام اعضا کے درمیان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ مگر یہ ربط فکری ربط نہیں ہوتا، وہ صرف ڈائریکشن (direction) کے معنی میں ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جسم کے تمام اعضا (organs) دماغ کی ہدایت (direction) ہی پر اپنا اپنا عمل انجام دیتے ہیں۔ کوئی بھی عضو دماغ سے آزاد ہو کر اپنا فنکشن انجام نہیں دیتا۔ اس استدلال کی غلطی یہ ہے کہ اُس میں ربط کے معاملے کو بیان کرنے کے لیے ایک غلط لفظ استعمال کیا گیا ہے، یعنی کمیونیکیشن (communication) کا لفظ۔ اس معاملے کو بیان کرنے کے لیے صحیح لفظ ڈائریکشن ہے، نہ کہ کمیونیکیشن۔ دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ ڈائریکشن کا عمل یک طرفہ (unilateral) ہوتا ہے اور کمیونیکیشن کا عمل دو طرفہ (bilateral)۔ ڈائریکشن کا لفظ بتاتا ہے کہ دماغ یک طرفہ طور پر اعضا کو اپنی ہدایت جاری کرتا ہے، جب کہ کمیونیکیشن کے لفظ کا مطلب یہ ہے کہ دماغ اور جسم کے اعضا کے درمیان یہ عمل دو طرفہ پر ہوتا ہے۔ مذکورہ استدلال میں یہ کیا گیا ہے کہ پہلے ربط کے لیے کمیونیکیشن کا لفظ استعمال کیا گیا اور پھر اُس سے یہ مطلب نکال لیا گیا کہ قلب ایک تفگیری عضو (thinking organ) ہے، حالاں کہ اس مفروضہ کے لیے کوئی علمی بنیاد (scientific base) موجود نہیں۔ اس غلطی کا عظیم نقصان یہ ہوا کہ مبنی بر قلب معرفت کے نظریے کے حاملین عام طور پر حکمت سے محروم ہو کر رہ گئے، کیوں کہ وہ حکمت کو قلب میں تلاش کر رہے تھے، جب کہ قلب میں حکمت سرے سے موجود ہی نہ تھی۔ اہل مذہب کے یہاں فرضی کہانیوں کا جو دفتر دکھائی دیتا ہے، اس کا سبب حکمت کی اسی کمی کی تلافی ہے۔ انسان ایک سوچنے والا حیوان (thinking animal) ہے۔ انسان کی تمام سرگرمیاں سوچ سے کنٹرول ہوتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انسان جیسا سوچتا ہے، ویسا ہی وہ بن جاتا ہے۔ سوچنے کی اس فیکلٹی (faculty) کو ذہن (mind) کہا جاتا ہے۔ ذہن کے لیے قرآن میں حسب ذیل الفاظ آئے ہیں عقل، لب، فواد، حجر، نہی اور قلب۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page