معرفت الہی
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
قلب کو عام طور پر دل کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے، مگر اسی کے ساتھ قلب کا لفظ عقل کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ عربی زبان کے مشہور لغت لسان العرب میں قلب کی تشریح کے تحت یہ الفاظ آتے ہیں: وَقَدْ يُعَبَّرُ بِالْقَلْبِ عَنِ الْعَقْلِ۔ قال الفراء في قوله تعالى: إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ، أى: عقل۔ قال الفراء: وجائز في العربية أن تقول: مالك قلب، وما قلبك معك۔ تقول: ما عقلك معك، وأين ذهب قلبك۔ أي: أين ذهب عقلك۔ (لسان العرب، ابن منظور، 1/687) یعنی قلب کو عقل کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ فراحوی نے کہا ہے کہ قرآن کی آیت: اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰی لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ (50:37) میں قلب سے مراد عقل ہے۔ عربی زبان میں یہ طریقہ درست ہے کہ عقل کے موقع پر قلب کا لفظ بولا جائے۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ تمھارا قلب کہاں چلا گیا، یعنی تمھاری عقل کہاں چلی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے اندر سب سے بڑی چیز ذہن (mind) ہے، قلب کا لفظ اور عقل کا لفظ دونوں اس معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ عقل کے لفظ کو لفظی طور پر ذہن کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے، اور قلب کا لفظ ادبی استعمال کے لحاظ سے ذہن کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ قلب صرف حرکتِ خون کا مرکز ہے اور سوچنے کا مرکز صرف دماغ ہے، لیکن ادبی استعمال کی بنا پر اب بھی، ہول مائنڈلی (wholemindedly) نہیں بولا جاتا، بلکہ ہول ہارٹلی (wholeheartedly) بولا جاتا ہے۔ یہی طریقہ ہر زبان میں رائج ہے۔ قرآن کا موضوع علم تشریح الاعضا (anatomy) نہیں ہے، بلکہ قرآن کا موضوع انسان کی ہدایت ہے۔ ہدایت کا تعلق کامل طور پر تعقل اور تفقه سے ہے۔ ایسی حالت میں قرآن میں جہاں بھی قلب کا لفظ آئے گا، تو قرآن کے موضوع کی بنا پر اُس کو عقل کے معنی میں لیا جائے گا۔ قلب کا لفظ جب دومعنی میں آتا ہے ایک، معروف طور پر دل کے معنی میں اور دوسرے، عقل کے معنی میں، تو ایسی حالت میں قرآن میں قلب کا مفہوم قرآن کے موضوع کی نسبت سے متعین ہوگا۔ قلب بمعنی دل، قرآن میں قابلِ انطباق (applicable) نہیں ہوگا، بلکہ قرآن میں قلب بمعنی عقل ہی قابل انطباق قرار پائے گا۔ یہ اصول، بلاغت کا ایک مسلّم اصول ہے، اور یہ قرآن اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader