Urdu book · کتابِ معرفت

تزکیۂ نفس

Urdu book, p. 227

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک بچہ جب ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے، اس وقت اس کو دیکھئے تو وہ معصومیت کا پیکر دکھائی دے گا۔ ایسا معلوم ہوگا جیسے کہ فرشتے نے انسان کی صورت اختیار کرلی ہے۔ پیدائش کے وقت انسان اپنے ذہن کے اعتبار سے خالص ذہن کا حامل ہوتا ہے۔ اس کی سوچ عین وہی فطری سوچ ہوتی ہے جو بطور واقعہ ہونا چاہیے۔ مگر انسان ایک سماجی حیوان (social animal) ہے۔ اس کو اپنی ساری زندگی دوسروں کے بنائے ہوئے سماج کے اندر گزارنا ہوتا ہے۔ اس بنا پر اس کا ذہن ہر آن خارجی تاثر قبول کرتا رہتا ہے۔ اسی کو کنڈیشننگ (conditioning) کہا جاتا ہے۔ یہ تاثر پذیری بڑھتی رہتی ہے، یہاں تک کہ انسان مکمل طور پر کنڈیشننگ کا کیس بن جاتا ہے۔ سن شعور کو پہنچنے کے بعد ہر عورت اور مرد کی یہ لازمی ذمے داری ہے کہ وہ اس کنڈیشننگ کو سمجھے اور اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کرکے دوبارہ وہ اپنے آپ کو حالت فطری کی طرف واپس لے جائے، وہ اپنے آپ کو انسان مصنوعی کے بجائے انسان فطری بنائے۔ ماحول کی کنڈیشننگ اصل انسان کے اوپر ایک مصنوعی پردے کی حیثیت رکھتی ہے۔ گویا انسان کی شخصیت پیاز کی مانند ہے۔ پیاز کے اندر مٹر کی مانند ایک مغز ہوتا ہے۔ اس داخلی مغز کے اوپر خارجی پردے کے مانند بہت سے چھلکے ہوتے ہیں۔ اگر ان چھلکوں کو ہٹایا جائے تو پیاز کا اندرونی مغز کھل کر سامنے آجائے گا۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان کی شخصیت کے اوپر ماحول کے اثر سے مصنوعی پردے پڑ جاتے ہیں۔ ان پردوں کو ہٹا دیا جائے تو انسان کی اصل شخصیت کھل کر سامنے آجائے گی۔ انسانی شخصیت کے انھیں خارجی پردوں کو ہٹانے کا نام ڈی کنڈیشننگ ہے۔ جو آدمی سچائی کا طالب ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی ڈی کنڈیشننگ کرکے مصنوعی پردوں کو ختم کرے تا کہ اس کی اصل شخصیت سامنے آسکے۔ مذہب میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ انسان خدا کی خاص تخلیق ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page