Urdu book · کتابِ معرفت

تزکیۂ نفس

Urdu book, p. 226

By Maulana Wahiduddin Khan

جو عورت یا مرد سچائی کا مسافر بننا چاہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ فطرت کے اس قانون کو جانے۔ مثلاً اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کی زندگی میں غلط عادتیں شامل ہو جاتی ہیں۔ یہ عادتیں مختلف قسم کی ہوتی ہیں۔ مثلاً ہنسی مذاق کی باتیں، پان سگریٹ کا استعمال، فضول خرچی، نمائشی کام، تفریحی مشغلے، لطیفہ گوئی، گپ شپ، رواجی تکلفات، اور رسمی تحائف کی بے معنی دھوم۔ اس قسم کی مختلف عادتیں ہیں جن میں لوگ مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ان عادتوں کا بیک وقت دو بڑا نقصان ہے۔ ایک، یہ کہ یہ عادتیں انسان کے اندر سطحیّت پیدا کرتی ہیں۔ وہ آدمی کو اعلیٰ ذوق سے محروم کر دیتی ہیں۔ اور دوسرے یہ کہ یہ عادتیں آدمی کے وقت اور اس کے وسائل کا بڑا حصہ کھا جاتی ہیں۔ آدمی اس قابل نہیں رہتا کہ وہ کسی سنجیدہ کام میں اپنے آپ کو بھر پور طور پر لگا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ غلط عادتیں قاتل عادتیں ہیں۔ وہ انسان کو انسان کے درجے سے گرا کر حیوان کے درجے تک پہنچا دیتی ہیں۔ مثبت شخصیت کی تعمیر روسو (Jean Jacques Rousseau) فرانس کا مشہور جمہوری مفکر ہے۔ وہ 1712 میں پیدا ہوا اور 1778 میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ شخصی بادشاہت کے مقابلے میں عوامی حکمرانی کا علم بردار تھا۔ وہ اپنی مشہور کتاب معاہدۂ عمرانی (Social Contract) کا آغاز اس جملے سے کرتا ہے بی انسان آزاد پیدا ہوا تھا، مگر میں اس کو زنجیروں میں بندھا ہوا دیکھتا ہوں: Man was born free, but I see him in chain. مگر انسان کا ایک اور مسئلہ ہے جو شاید اس سے بھی زیادہ سنگین ہے، اور وہ کنڈیشننگ ہے۔ ہر عورت اور مرد کسی ماحول میں رہتے ہیں۔ ماحول کی نسبت سے ہر ایک کے ذہن کی کنڈیشننگ ہو جاتی ہے جو اس کو صحیح طرز فکر سے محروم کر دیتی ہے۔ آدمی اس قابل نہیں رہتا کہ وہ فطری انداز میں سوچ سکے۔ اس مسئلے کو دیکھتے ہوئے روسو کے جملے کو زیادہ بہتر طور پر اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ بی انسان خدائی فطرت پر پیدا ہوا تھا، مگر وہ ہر جگہ کنڈیشنڈ دکھائی دیتا ہے: Man was created on divine nature, but I see him psychologically conditioned.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page