Urdu book · کتابِ معرفت

تزکیۂ نفس

Urdu book, p. 229

By Maulana Wahiduddin Khan

نشانیاں دیکھنا۔ مادی تجربات سے آخرت کا سبق نکالنا۔ دنیا کی ہر چیز میں یہ ربانی پہلو چھپا ہوا ہے۔ روحانیت یہی ہے کہ آدمی دنیوی یا مادی سرگرمیوں کے درمیان رہتے ہوئے ان نشانیوں کو دیکھے۔ وہ مادی تجربہ کو روحانی تجربہ میں کنورٹ کر سکے۔ روحانیت دراصل کنورژن کی اسی ذہنی صلاحیت کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔ روحانیت نہ دنیا کو ترک کرنے سے ملتی ہے اور نہ الفاظ کی لسانی تکرار سے۔ روحانیت کا درجہ اُس کو ملتا ہے جو مادی دنیا کو اپنے لیے روحانی خوراک (spiritual food) بنا سکے۔ ایک مہلک عادت زندگی کی ایک صراطِ مستقیم ہے، یعنی سیدھا راستہ جو شخص اس صراطِ مستقیم پر چلے، وہ لازمی طور پر کامیابی کی منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ اس سفر میں رکاوٹ ڈالنے والی صرف ایک چیز ہے، اور وہ ڈسٹرکشن (distraction) ہے، یعنی ادھر اُدھر کی چیزوں کی طرف بھٹک جانا اور صراطِ مستقیم سے منحرف ہو جانا۔ جنت میں آدمی کے لیے جو شجرِ ممنوعہ تھا، وہ دراصل اسی ڈسٹرکشن کی علامت تھا۔ اس کے ذریعے آغازِ حیات ہی میں انسان کو بتا دیا گیا کہ جس دنیا میں تم کو امتحان کے لیے بسایا جا رہا ہے، وہاں تمھارے لیے بہت سے اشجارِ ممنوعہ، یعنی ڈسٹرکشن کے اسباب ہوں گے۔ اگر تم نے اپنے آپ کو ان اشجارِ ممنوعہ کی طرف بھٹکنے سے بچایا تو تم کامیابی کے ساتھ دوبارہ اپنی منزل پر پہنچ جاؤ گے، ورنہ دوبارہ تم کو جنت ملنے والی نہیں۔ یہ ڈسٹرکشن مختلف صورتوں میں ہوتا ہے۔ آدمی اگر غور وفکر سے کام لے تو پہچان کر اپنے آپ کو ڈسٹرکشن سے بچا سکتا ہے۔ مگر سب سے زیادہ خطرناک ڈسٹرکشن وہ ہے جو آدمی کی زندگی میں عادت بن کر داخل ہو جائے۔ آدمی جس چیز کا عادی ہو جاتا ہے، وہ اُس کو سوچے بغیر کرنے لگتا ہے، وہ اس کے غیر شعوری عمل کا حصہ بن جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں اِس قسم کی بہت سی نئی عادتیں پیدا ہوئی ہیں۔ لوگ بری طرح اُن کے عادی ہوگئے ہیں۔ اُنھیں میں سے ایک یہ ہے کہ بہت سے لوگ ٹیلی فون ایڈکٹ (telephone-addict) بنے ہوئے ہیں۔ وہ اتنے زیادہ ٹیلی فون کے عادی ہو گئے ہیں کہ ٹیلی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page