تزکیۂ نفس
Urdu book, p. 230
By Maulana Wahiduddin Khan
فون کے بغیر ان کو چین نہیں آتا۔ اس تباہ کن عادت نے لوگوں کو ایک بہت بڑی محرومی میں مبتلا کر دیا ہے، وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دماغ دیا تھا، تا کہ وہ بڑی بڑی باتوں کو سوچے اور بڑی بڑی حقیقتوں کو دریافت کرے، لیکن ہر آدمی موبائل لیے ہوئے چھوٹی چھوٹی بے کار باتوں میں مشغول رہتا ہے، اس کے پاس بڑی بڑی باتوں پر غور کرنے کے لیے وقت ہی نہیں۔ ڈی کنڈیشننگ کا طریقہ ہر آدمی کسی ماحول میں پیدا ہوتا ہے۔ یہی ماحول ہر آدمی کا ذہن بناتا ہے۔ ذہنی تاثر پذیری کے اسی عمل کو کنڈیشننگ (conditioning) کہا جاتا ہے۔ یہی بلا استثنا ہر آدمی کا معاملہ ہے۔ ہر آدمی کا ذہن کنڈیشنڈ ذہن (conditioned mind) ہے۔ یہی ہر آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہ کنڈیشننگ ہر آدمی کو فطرت سے ہٹا دیتی ہے۔ اس لیے ضرورت ہوتی ہے کہ ہر آدمی کی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کر کے اس کو فطرت کی طرف واپس لایا جائے۔ اس ڈی کنڈیشننگ کا صرف ایک طریقہ ہے، اور وہ محاسبہ (introspection) ہے، یعنی سخت انداز میں مسلسل طور پر اپنی اصلاح کا عمل جاری رکھنا۔ کسی آدمی کی یہ اصلاح دو طریقے سے ہوتی ہے یا تو وہ دوسرے شخص کی سخت تنقید کو برداشت کرے، یعنی خارجی ہیمرنگ (hammering) کو کھلے ذہن کے ساتھ قبول کرے ۔ وہ برا مانے بغیر دوسرے شخص کی سخت تنقید کو سن کر اپنے آپ پر نظر ثانی (reassessment) کا عمل کرے۔ اس ڈی کنڈیشننگ کا دوسرا طریقہ وہ ہے جس کو شدید خود احتسابی (self-hammering) کہا جاسکتا ہے، یعنی آدمی اپنے آپ کو دشمن جیسی نظر سے دیکھے۔ وہ ہر صبح و شام اپنا جائزہ لیتا رہے، وہ اپنی ہر غلطی کو شدت کے ساتھ محسوس کرے اور اس کو لے کر اپنا سخت محاسبہ کرے، وہ اپنے اوپر بے رحمانہ تنقید (merciless hammering) کرتا رہے، کسی معاملے میں وہ ہرگز اپنے آپ کو رعایت نہ دے، وہ دوسرے کو الزام دینے کے بجائے ہمیشہ خود اپنے آپ کو ملزم ٹھہرائے، وہ اپنے بارے میں اتنا سخت ناقد بن جائے جیسے کہ وہ اپنا دشمن کر رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader