Urdu book · کتابِ معرفت

تزکیۂ نفس

Urdu book, p. 232

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی وجہ ہے کہ ہزاروں سال کی روحانی ریاضت کے نتیجے میں انسان کو جو چیز ملی، وہ صرف وجد (ecstasy) تھا، نہ کہ روحانی بنیاد پر ذہنی ارتقاء۔ اس قسم کی روحانیت دراصل، روحانیت کی ایک کم تر صورت (reduced form) ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں روحانی ارتقاء۔ جیسا کہ معلوم ہے، وجد ایک مبہم کیفیت کا نام ہے، جب کہ انسان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایسا ذہن رکھتا ہے جس کے اندر سوچنے کی صلاحیت ہے۔ انسانی تاریخ کی تمام ترقیاں سوچ کی صلاحیت کو عمل میں لانے سے حاصل ہوئی ہیں۔ ایسی حالت میں، روحانیت اگر کوئی چیز ہے تو اس کو بھی ذہن کی سطح پر حاصل ہونا چاہیے۔ تمام انسانی ترقیوں کا سرچشمہ انسان کے ذہن میں تفکیری عمل ہے، اسی طرح روحانی ترقی کا ذریعہ بھی تفکیری عمل کو ہونا چاہیے۔ روحانیت دراصل معرفتِ حقیقت کا اعلیٰ درجہ ہے، وہ مبہم بے خودی جیسی کوئی چیز نہیں ۔ اس لیے حقیقی روحانیت وہی ہے جو کسی آدمی کو ذہن کی سطح پر حاصل ہو، نہ کہ قلب کی سطح پر۔ اس حقیقت سے بے خبری کی بنا پر ایسا ہوا کہ پوری تاریخ میں انسان حقیقی روحانیت کے حصول سے محروم رہا۔ اس نے جس چیز کو روحانیت سمجھا، وہ روحانیت نہیں تھی۔ اور جو اصل روحانیت تھی، اس سے بے خبری کی بنا پر وہ اس کو حاصل کرنے کی طرف اپنا سفر ہی شروع نہ کر سکا۔ تاریخ انسانی کا یہ شاید سب سے بڑا المیہ ہے، اس سے بڑا المیہ اور کوئی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page