Urdu book · کتابِ معرفت

تزکیۂ نفس

Urdu book, p. 231

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈی کنڈیشننگ کے یہی دو ممکن طریقے ہیں ۔ آدمی یا تو دوسرے کی بے رحمانہ تنقید کو برداشت کرے، یا وہ خود اپنا بے رحم ناقد بن جائے۔ جو آدمی دوسروں سے میٹھی بات سننا چاہے اور خود ہمیشہ اپنی رعایت کرتا رہے، ایسا آدمی ہمیشہ کنڈیشننگ میں جئے گا، اس کی کبھی ڈی کنڈیشننگ ہونے والی نہیں۔ ذہنی انقلاب کے بغیر روحانیت روحانیت (spirituality) ہمیشہ سے انسان کی دلچسپی کا موضوع رہا ہے۔ اس کے نام ہر حلقے میں الگ الگ لیے جاتے رہے ہیں۔ مثلاً مسٹر م (Mysticism) اور مراقبہ (Meditation) اور تصوّف (Sufism)، وغیرہ۔ روحانیت کے محاذ پر ہزاروں سال سے زبردست سرگرمیاں جاری ہیں، مگر ابھی تک ان سرگرمیوں کا کوئی حقیقی فائدہ حاصل نہ ہوسکا۔ تمام کوششوں اور ریاضتوں کے بعد جو چیز حاصل ہوئی، وہ صرف بے شعور وجد (ecstasy) ہے، نہ کہ روحانی ارتقاء جو کہ ان سرگرمیوں کا اصل مطلوب تھا۔ اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے سے لوگ یہ ماننے لگے کہ انسان کا ذہن سوچ کا مرکز ہے، اور انسان کا دل جذبات و عواطف کا مرکز۔ کیوں کہ روحانیت کو عواطف کی نوعیت کی چیز سمجھ لیا گیا، اس لیے انسان ہمیشہ مبنی بر قلب روحانیت (heart-based spirituality) پر عقیدہ رکھتا رہا۔ اس مفروضے کی بنیاد پر باقاعدہ فلسفہ وضع کیا گیا۔ یہ مان لیا گیا کہ انسان کا دل ہر قسم کے روحانی خزانوں کا سرچشمہ ہے۔ اور دل میں چھپے ہوئے احساسات کو جگا کر روحانی فیض حاصل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات نے اس مفروضے کو بے بنیاد ثابت کر دیا۔ اب یہ قطعیت کے ساتھ معلوم ہوچکا ہے کہ فکر اور جذبات دونوں کا واحد مرکز صرف انسان کا ذہن (mind) ہے۔ جہاں تک دل کا تعلق ہے، وہ صرف گردش خون (circualtion of blood) کا ذریعہ ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: الرساله، نومبر 2004، صفحہ 23؛ جون 2005، صفحہ 6؛ فروری 2006، صفحہ 28 ؛ اگست 2006، صفحہ 33)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page