ربانیات
Urdu book, p. 239
By Maulana Wahiduddin Khan
معرفت کا آغاز قرآن کی سورہ البلد کی دو آیتیں یہ ہیں: لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدٍ، أَيَحْسَبُ أَنْ لَنْ يَقْدِرَ عَلَيْهِ أَحَدٌ (95: 4-5) یعنی ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔ کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اُس کے اوپر کسی کو قدرت حاصل نہیں۔ موجودہ دنیا کا قانون اس طرح بنا ہے کہ یہاں انسان کو مشقت (hardship) کے کورس سے لازمی طور پر گزرنا پڑتا ہے۔ اس قانون عام سے کوئی بھی شخص مستثنیٰ نہیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ انسان کا کیس عجز (helplessness) کا کیس ہے۔ اس دنیا میں صرف خالق ہے جس کو قادرِ مطلق کا درجہ حاصل ہے۔ یہ تقسیم اتنی زیادہ حتمی ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے آپ کو اس سے الگ نہیں کر سکتا۔ قرآن کی سورہ آل عمران میں ارشاد ہوا ہے: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185) ۔ یعنی ہر شخص کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ اس دنیا میں جو شخص بھی پیدا ہوتا ہے، وہ ایک محدود مدت کے بعد مر جاتا ہے۔ موت کا یہ واقعہ انسان کے عجز کو بتاتا ہے۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ انسان کی طرف صرف عجز ہے۔ جہاں تک قدرت کا سوال ہے، وہ خالق کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔ یہ دونوں تجربات ہر عورت اور ہر مرد کے لیے حتمی تجربات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس طرح ہر شخص خود اپنے ذاتی تجربہ کی روشنی میں یہ دریافت کر سکتا ہے کہ وہ عجزِ کامل کے مقام پر ہے اور اس کے مقابلے میں اس کا خالق قدرتِ کاملہ کے مقام پر۔ یہی دریافت معرفت کا آغاز ہے۔ جو آدمی اس حقیقت کو دریافت کر لے، اس کا سفر معرفت کے راستے پر شروع ہو گیا۔ اس کے بعد اس کی زندگی میں وہ تمام چیزیں آتی چلی جائیں گی جو خدا کی شریعت میں مطلوب ہیں۔ یہ معرفت گویا ایک فکری انقلاب (intellectual revolution) ہے، وہ آدمی کی پوری زندگی کو اللہ کے رنگ (البقرۃ، 2:138) میں رنگ دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader