ربانیات
Urdu book, p. 240
By Maulana Wahiduddin Khan
عقل اور دین قرآن کی سورہ ص میں قرآن کے بارے میں یہ آیت آئی ہے کِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (38:29)۔ یعنی یہ ایک مبارک کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تا کہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن لفظی تلاوت (recitation) کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ اس لیے ہے کہ پڑھنے والا اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے اس کی آیتوں پر غور کرے اور اُس سے وہ نصیحت حاصل کرے جو آیتوں کے اندر چھپی ہوئی ہے۔ عقل کی اہمیت کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ ان میں سے ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: لِكُلِّ شَيْءٍ دِعَامَةٌ وَدِعَامَةُ الْمُؤْمِنِ عَقْلُهُ (مسند الحارث، حدیث نمبر 840) یعنی ہر چیز کا ایک ستون ہوتا ہے، اور مومن کا ستون اس کی عقل ہے۔ اس معاملے کی وضاحت ایک اور حدیث سے ہوتی ہے۔ ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے بارے میں فرمایا کہ قرآن کی ہر آیت کا ایک ظاہر ہے اور ایک اس کا باطن ہے (لِكُلِّ آيَةٍ مِنْهَا ظَهْرٌ وَبَطْنٌ) مسند ابو یعلیٰ، حدیث نمبر 5149۔ قرآن کی آیتوں کا ظاہری مفہوم تو اس کی آیتوں کے ترجمے سے معلوم ہو جاتا ہے، لیکن آیتوں کا جو باطن، یعنی اس کا جو گہرا مفہوم ہے، وہ صرف عقل کے استعمال کے ذریعے ہی معلوم ہوتا ہے۔ عقل کے ذریعے آدمی الفاظ پر مزید غور و فکر کرتا ہے۔ اس غور و فکر کے ذریعے وہ آیتوں کے اندر چھپے ہوئے گہرے معانی تک پہنچتا ہے۔ قرآن کی یہ گہری معرفت ہی آدمی کے اندر اعلیٰ ایمانی کیفیت پیدا کرتی ہے بی عقل کے استعمال کے بغیر کسی آدمی کو جو دین حاصل ہوتا ہے، وہ دین کا چھلکا ہے اور عقل کے استعمال کے بعد کسی آدمی کو جو دین حاصل ہوتا ہے، وہ دین کا مغز ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader