ربانیات
Urdu book, p. 241
By Maulana Wahiduddin Khan
آزمائش کیوں ایک حدیث قدسی ان الفاظ میں آئی ہے: اِنَّ الْعَبْدَ يَدْعُو اللَّهَ وَهُوَ يُحِبُّهُ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا جِبْرِيلُ اقْضِ لِعَبْدِي هَذَا حَاجَتَهُ، وَأَخِّرْهَا، فَإِنِّي أُحِبُّ أَلَا أَزَالَ أَسْمَعُ صَوْتَهُ (معجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر (8442)۔ یعنی بندہ جب اپنے رب کو پکارتا ہے اور وہ اس سے محبت کرتا ہے تو خدا تعالی فرماتا ہے کہ اے جبریل، میرے بندے کی حاجت پوری کرنے میں جلدی نہ کر، مجھے محبوب ہے کہ میں اس بندے کی آواز کو برابر سنوں۔ اس روایت میں صوت (voice) کا لفظ سادہ طور پر صرف آواز کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ وسیع تر اعتبار سے، کلام کے معنی میں ہے۔ یہ صوت اُس مومن کے بارے میں ہے جو اللہ کے قانون کے مطابق، آزمائش سے دوچار ہو۔ اِس تجربے سے اس کا دل تڑپ اٹھے۔ اس کے ذہن میں ربانی افکار کا طوفان برپا ہو جائے۔ وہ اپنے عجز اور اللہ کی کبریائی کو دریافت کرے۔ اس کے نتیجے میں اس کی روح کے اندر ایک نیا طوفان برپا ہو جائے۔ ایسے موقع پر ایک مومن کی زبان سے جو کلمات نکلتے ہیں، وہ انوکھے کلمات ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کی عظمت (glory of God) کی نئی دریافت کے ہم معنی ہوتے ہیں۔ ایسا مومن اُس خاص لمحہ میں پوری کائنات کے لیے قابل رشک بن جاتا ہے۔ اُس وقت وہ اللہ کا ایسا ذکر کرتا ہے جس سے زمین اور آسمان بھی عاجز ہو گئے ۔ یہ ایک تخلیقی نوعیت کا اعلیٰ ربانی ذکر ہوتا ہے۔ آزمائش مومن کے لیے ایک ربانی تجربہ ہوتی ہے۔ آزمائش مومن کی حساسیت (sensitivity) میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اُس وقت اس کی زبان سے ذکر و دعا کے جو الفاظ نکلتے ہیں، وہ صرف معلوم الفاظ کی تکرار نہیں ہوتے، بلکہ وہ تخلیقی نوعیت کی دعا ہوتی ہے۔ اُس وقت وہ اپنے رب کو ایسے الہامی الفاظ میں پکارنے لگتا ہے جس کو خود اس نے بھی اس سے پہلے نہیں جانا تھا نبی علم جب تجربہ بن جائے اور الفاظ جب حساسیت میں ڈھل جائیں، اُس وقت مومن کی زبان سے جو کلمات نکلتے ہیں، وہ کلمات اتنے اعلیٰ ہوتے ہیں کہ خود اللہ کو اس کا سننا محبوب بن جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader