ربانیات
Urdu book, p. 244
By Maulana Wahiduddin Khan
ارتقا کے تین درجے ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: النَّاسُ مَعَادِنُ كَمَعَادِنِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ، خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلامِ إِذَا فَقِهُوا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2638) یعنی انسان دھات کی مانند ہیں، جیسے سونے اور چاندی کی دھات ۔ جاہلیت میں جو بہتر ہیں، وہی اسلام میں بھی بہتر ہیں ، جب کہ وہ اپنے اندر سمجھ پیدا کریں۔ اس حدیث میں انسان کے فکری ارتقا کے مراحل کو بتایا گیا ہے۔ ایک درجہ فکری وہ ہے جس پر انسان پیدا ہوتا ہے۔ دوسرا درجہ فکری وہ ہے جو انسان خود اپنی کوششوں سے بناتا ہے۔ تیسرا درجہ معرفت کا درجہ ہے۔ معرفت کے درجے میں پہنچ کر انسان اپنے ارتقا کی آخری منزل کو پالیتا ہے، یعنی وہ درجہ جس کا دوسرا نام اسلام ہے۔ اس اعتبار سے انسان کی مثال دھات (metal) جیسی ہے۔ لوہا زمین سے نکلتا ہے۔ ابتدائی حالت میں وہ خام لوہا (ore) ہوتا ہے۔ اس کے بعد اُس کو پگھلا کر صاف کیا جاتا ہے۔ اب وہ ترقی پا کر اسٹیل بن جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ مزید صنعتی مراحل سے گزرتا ہے، یہاں تک کہ وہ باقاعدہ مشین کی صورت اختیار کر لیتا ہے بی یعنی پہلے مرحلے میں خام لوہا، دوسرے مرحلے میں اسٹیل، اور تیسرے اور آخری مرحلے میں مشین۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو گویا کہ وہ فطرت کی کان (mine) سے نکل کر باہر کی دنیا میں آتا ہے۔ اس کے بعد وہ بڑا ہوتا ہے اور اپنی سوچ کو عمل میں لاتا ہے۔ وہ تعلیم و تربیت کے مراحل سے گزرتا ہے۔ اس طرح پختگی کی عمر میں پہنچ کر وہ ایک باقاعدہ انسان بن جاتا ہے۔ یہ انسانی وجود کا درمیانی مرحلہ ہے۔ اس کے بعد اگر وہ اپنی عقل کو صحیح رخ پر استعمال کرے تو وہ معرفت حق کے درجے میں پہنچ جاتا ہے۔ یہ وہ درجہ ہے جب کہ کوئی پیدا ہونے والا، کمال انسانیت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader