ربانیات
Urdu book, p. 245
By Maulana Wahiduddin Khan
کے مرحلے میں پہنچ کر عارف باللہ کا مقام حاصل کرلیتا ہے ۔ ان تین ارتقائی مراحل کو حسب ذیل صورت میں بیان کیا جاسکتا ہے : 1۔ پیدائشی شخصیت ( born personality) 2۔ تیار شدہ شخصیت ( developed personality) 3۔ عارفانہ شخصیت ( realized personality) پیدائشی شخصیت ، خدا کی دی ہوئی شخصیت ہوتی ہے ۔ پیدائشی شخصیت کے اعتبار سے ہر آدمی یکساں ہوتا ہے ۔ صلاحیت کے اعتبار سے اگر چہ ایک انسان اور دوسرے انسان میں ہمیشہ فرق ہوتا ہے ، لیکن اس فطری فرق کے باوجود تمام انسان امکانی استعداد (potential capacity) کے اعتبار سے یکساں حیثیت کے مالک ہوتے ہیں ۔ اسی بات کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : اَلْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ، خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيْفِ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ اِحْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللهِ وَلَا تَعْجِزْ، وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ، فَلَا تَقُلْ لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا، وَلَكِنْ قُلْ قَدَرُ اللهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ، فَإِنَّ لَوْ تُفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ ( صحیح مسلم، حدیث نمبر 2664)۔ یعنی قوی مومن ، اللہ کے نزدیک ضعیف مومن سے زیادہ بہتر اور پسندیدہ ہے ، اور ہر ایک میں خیر ہے ۔ جو چیز تمھارے لیے نافع ہو ، اس کے تم حریص بنو اور اللہ سے مدد چاہو اور عاجز نہ ہو ۔ اور اگر تمھارے خلاف کوئی بات پیش آئے تو یہ نہ کہو کہ کاش ، میں نے ایسا اور ایسا کیا ہوتا ۔ بلکہ یہ کہو کہ یہ خدا کا تقدیری منصوبہ تھا ، اسی نے جو چاہا کیا۔ کیوں کہ ’’اگر‘‘ کہنا شیطان کے عمل کا دروازہ کھولتا ہے۔ اس حدیث میں مومن سے مراد انسان ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان اگر اپنے اندر ایک اعتبار سے کمی محسوس کرے تو اس کو مایوس نہیں ہونا چاہیے ، کیوں کہ دوسرے اعتبار سے اُس کے اندر کوئی اور صفت زیادہ ہوگی ۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی خداداد صلاحیت کو دریافت کرے اور حوصلہ مندانہ انداز میں اپنی زندگی کی تعمیر کرے ۔ جدوجہد حیات کے دوران اگر اس کو کوئی نقصان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader