Urdu book · کتابِ معرفت

ربانیات

Urdu book, p. 248

By Maulana Wahiduddin Khan

شیطان کا پردہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک طویل حدیث مروی ہے۔ اُس کا ایک حصہ یہ ہے: هَذِهِ الشَّيَاطِينُ يَحُومُونَ عَلَى أَعْيُنِ بَنِي آدَمَ أَلَا يَتَفَكَّرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَوْلَا ذَاكَ لَرَأَوا الْعُجَائِب (مسند احمد، حدیث نمبر 8625)۔ یعنی یہ شیاطین، بنی آدم کی آنکھ کے سامنے منڈلاتے رہتے ہیں، تا کہ وہ آسمان و زمین میں خدائی قدرت پر غور نہ کریں۔ اگر ایسا نہ ہو تو یقیناً وہ عجائب کو دیکھیں۔ ہمارے گرد و پیش جو کائنات ہے، اس کو علمی اصطلاح میں فطرت (nature) کہا جاتا ہے۔ اس وسیع عالمِ فطرت میں بے شمار واقعات یا مظاہر ہیں جو ہر وقت انسان کے سامنے آتے رہتے ہیں۔ ہر آنکھ والا انسان اُن کو دیکھتا ہے اور اُن کا تجربہ کرتا ہے، لیکن بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس آیت کا مصداق بنے رہتے ہیں: وَكَأَيِّنْ مِنْ آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ (12:105)۔ یعنی اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر ان کا گزر ہوتا رہتا ہے اور وہ ان پر دھیان نہیں کرتے۔ یہ کائناتی واقعات دراصل خدائی نشانیاں (divine signs) ہیں، وہ تخلیق (creature) کی صورت میں اپنے خالق (Creator) کا تعارف ہیں۔ انسان اگر کھلی آنکھ سے دیکھے تو وہ ان واقعات میں عجائب قدرت کا مشاہدہ کرے گا۔ لیکن شیطان آدمی کے ذہن میں ایسی باتیں ڈالتا ہے کہ وہ ان کائناتی واقعات کو صحیح زاویہ نظر سے نہ دیکھ سکے۔ شیطان، آدمی کے ذہن میں یہ تصور ڈالتا ہے کہ یہ سب واقعات خود کار قوانین کا نتیجہ ہیں، نہ کہ خدائی قدرت کا نتیجہ۔ شیطان یہ کوشش کرتا ہے کہ آدمی ان واقعات کو نصیحت کے پہلو سے نہ دیکھے، بلکہ وہ صرف اس نظر سے دیکھے کہ کس طرح اُن کے مادی فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ شیطان یہ کوشش کرتا ہے کہ آدمی اپنے اردگرد کے واقعات کو فارگرانٹڈ (for granted) طور پر لیتا رہے، وہ اُن کے بارے میں زیادہ غور و فکر نہ کرے۔ یہی وہ شیطانی وسوسے ہیں جو انسان کو حقائق کی صحیح معرفت سے محروم کر دیتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page