ربانیات
Urdu book, p. 249
By Maulana Wahiduddin Khan
تواضع ایک عظیم عبادت حدیث میں آیا ہے: كُلُّ ابْنِ آدَمَ خَطَّاءٌ وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2499) ۔ یعنی ہر انسان خطا کار ہے، اور سب سے اچھا خطا کا رہ وہ ہے جو خطا کے بعد تو بہ کرے ۔ اعتراف خطا، ایک عظیم عبادتی عمل ہے ۔ یہ اعترافِ خطا، خدا کے مقابلے میں بھی ہوتا ہے اور انسان کے مقابلے میں بھی ۔ جب خدا کے مقابلے میں اپنی غلطی کا اعتراف کیا جائے تو اُس کو تو بہ کہا جاتا ہے، اور یہی عمل جب انسان کے مقابلے میں کیا جائے تو اُس کا نام اعترافِ خطا ہے۔ اصحابِ رسول کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ بہت زیادہ تو بہ کرنے والے اور اعترافِ کرنے والے تھے، حتی کہ بہت سے ایسے واقعات ہیں جب کہ ایک صحابی نے کہا کہ مجھ سے غلطی ہوئی، مجھ کو معاف کرو۔ حالاں کہ خالص قانونی اعتبار سے اُس کو دیکھا جائے تو وہاں صحابی نے کوئی غلطی نہیں کی تھی۔ ایسا کیوں ہے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ کہنا کہ میں غلطی پر تھا، دراصل اپنی تواضع کو ایسٹیبلشڈ (established) کرنا ہے۔ اسلامی عقیدے کے مطابق ، ہر انسان کے پاس ہر وقت خدا کے فرشتے موجود رہتے ہیں، جو اُس کے ہر قول وعمل کا ریکارڈ تیار کرتے رہتے ہیں ۔ ایسی حالت میں یہ بالکل فطری بات ہے کہ ایک سچا مومن اس بات کا حریص ہو کہ فرشتے اپنے ریکارڈ میں اُس کو ایک متواضع انسان کی حیثیت سے درج کریں، نہ کہ ایک سرکش انسان کی حیثیت سے۔ یہ جذبہ ایک فطری جذبہ ہے۔ ہر مومن کے اندر وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر موجود رہتا ہے۔ اس بنا پر مومن طبعاً اس کو پسند نہیں کرتا کہ وہ فرشتوں کی نظر میں ایک سرکش انسان دکھائی دے۔ کسی معاملے میں خواہ بظاہر اُس کی غلطی نہ ہو، تب بھی اُس کا متواضعانہ مزاج اُس کی زبان سے اس طرح ظاہر ہوتا رہتا ہے کہ وہ بار بار یہ کہہ دیتا ہے کہ میں غلطی پر تھا۔ غلطی کا اعتراف نہ کرنے سے سرکشی کے جذبات کو تسکین ملتی ہے۔ اس کے برعکس ، غلطی کا اعتراف مومن کی متواضعانہ نفسیات کی تسکین کا ذریعہ ہے۔ بے اعترافی اگر سرکش انسان کی غذا ہے تو اعتراف اُس مومن کی غذا ہے جو اپنے آپ کو ہمہ تن خدا کے آگے جھکائے ہوئے ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader