Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

استعمال کیا گیا ہے۔ حقیقی معنویت کے اعتبار سے، اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو انسان اپنے شعور کی اصلاح کرے، جو اپنی فطرت کو بعد کی آلائشوں سے پاک کرے، جو ماحول کی کنڈیشننگ کو توڑ کر اپنے آپ کو ایک ڈی کنڈیشنڈ مائنڈ (de-conditioned mind) بنائے۔ ایسے ہی انسان کو خدا کی معرفت حاصل ہوگی، ایسا ہی انسان صراط مستقیم پر چل سکے گا۔ اصل یہ ہے کہ ہر انسان صحیح فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر ماحول کے اثر سے اُس کی فطرت گرد آلود ہوتی رہتی ہے۔ ان خارجی اثرات سے پاک کر کے فطرت کو اس کی اصل حالت پر قائم کرنے کا نام محاسبہ یا ڈی کنڈیشننگ ہے۔ یہی بے لاگ محاسبہ اس بات کا ضامن ہے کہ آدمی صحیح فطرت یا قلبِ سلیم کا حامل ہو، اور جو لوگ ایسا کرسکیں، وہی وہ لوگ ہیں جو قلبِ سلیم کے ساتھ خدا کے یہاں پہنچیں گے اور آخرت میں جنت کی ابدی دنیا میں داخلے کے مستحق قرار پائیں گے۔ قلبِ سلیم قرآن کی سورہ الشعراء میں یہ آیت آئی ہے: يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ (88) إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ (26:88-89)۔ قرآن کی اس آیت میں قلب سے مراد وہی چیز ہے جس کو عقل کہا جاتا ہے۔ سلیم کے لفظی معنی آلودگی سے پاک کے ہیں۔ اس اعتبار سے، اس آیت میں قلبِ سلیم کا مطلب ہے: بے آمیز عقل (unimpaired reason)۔ جو لوگ اپنی عقل کو غیر فطری افکار کی آلودگی سے بچائیں، وہی اس دنیا میں حق کی معرفت حاصل کریں گے، اور ایسے ہی لوگ آخرت کی دنیا میں اللہ کی رحمت کے مستحق ٹھہریں گے۔ قلبِ سلیم یا عقلِ سلیم کسی آدمی کو فکری جدوجہد کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ ایسا آدمی آخری حد تک سنجیدہ ہو جاتا ہے۔ وہ اس قابل ہوتا ہے کہ افکار و معلومات کے جنگل میں سچائی کو دریافت کر سکے۔ وہ اس قابل ہوتا ہے کہ چیزوں کا تجزیہ کر کے اُن کو سارٹ آؤٹ (sort out) کر سکے۔ وہ اس قابل ہوتا ہے کہ چیزوں کو صحیح زاویہ نگاہ سے دیکھ سکے۔ اسی کا نام قلبِ سلیم یا بے آمیز عقل ہے۔ یہ عقل کسی کو عظیم قربانی کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، جسمانی قربانی کے ذریعے نہیں، بلکہ فکری اور نظریاتی قربانی کے ذریعے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page