Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

غیر قرآن دونوں کے لیے قابلِ انطباق ہے۔ مثلاً ایک کتاب جو علمِ تشریح الاعضا (anatomy) پر لکھی گئی ہو، اُس میں اگر کہیں قلب (heart) کا لفظ آتا ہے تو وہاں قلب کے لفظ کو عقل (mind) کے معنی میں نہیں لیا جائے گا، بلکہ دل کے معنی میں لیا جائے گا۔ اس کے برعکس، جب قرآن میں قلب کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس کو عقل کے معنی میں لیا جائے گا۔ علمِ تشریح الاعضا کے موضوع پر لکھی جانے والی کتاب میں قلب کا مفہوم اس کے موضوع کی نسبت سے متعین ہوتا ہے۔ اسی طرح قرآن میں اگر قلب کا لفظ کسی آیت میں آئے تو یہاں قلب کا مفہوم قرآن کے موضوع کی نسبت سے متعین ہوگا، یعنی اِس کو عقل کے معنی میں لیا جائے گا۔ یہ بلاغت کا ایک معروف اصول ہے۔ ہر زبان میں ایسا ہے کہ اکثر کسی لفظ کے کئی معنی ہوتے ہیں۔ یہ معنی سیاق (context) سے متعین ہوتا ہے۔ مثلاً عربی زبان کا ایک لفظ دین ہے، جس کے کئی معنی ہوتے ہیں۔ مثلاً مَالِكِ یَوْمِ الدِّین (1:3) میں یہ لفظ روز جزا کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور اَقِیمُوا الدِّین (42:13) میں یہ لفظ مذہب (religion) کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے، وغیرہ۔ اصلاحِ قلب یا اصلاحِ شعور قرآن کی سورہ الشعراء میں ارشاد ہوا ہے کہ آخرت میں جنت میں داخلے کا مستحق وہ قرار پائے گا جو قلبِ سلیم کے ساتھ وہاں پہنچے: اِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِیم (26:89)۔ اس آیت میں قلب سے مراد معروف معنوں میں دل نہیں ہے، بلکہ شعور ہے۔ سلیم یا سلامت کا مطلب ہوتا ہے بی بُری ہونا۔ ضحاک بن مزاحم تابعی (وفات 723ء) نے قلبِ سلیم کی تفسیر قلبِ خالص سے کی ہے (تفسیر القرطبی، 13/ 114)۔ قلبِ سلیم سے مراد ہے بی آلائش سے پاک قلب (pure heart)، یعنی جو شخص دنیا میں اپنی فطرت کو آلائش سے بچائے اور صحیح فطرت کے ساتھ آخرت میں پہنچے۔ اِس کو دوسرے لفظوں میں ڈی کنڈیشنڈ روح (de-conditioned soul) بھی کہہ سکتے ہیں۔ قلب کا لفظ یہاں اپنے لٹری معنی میں ہے۔ ادبی استعمال میں قلب کا لفظ مرکزِ شعور کے معنی میں رائج ہو گیا ہے۔ اور قرآن انسانی زبان میں نازل ہوا ہے، اِسی مفہوم کے اعتبار سے قرآن میں بھی اس لفظ کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page