ربانیات
Urdu book, p. 250
By Maulana Wahiduddin Khan
تقویٰ کیا ہے روایات میں آیا ہے کہ حضرت عمر فاروق نے حضرت اُبی بن کعب سے پوچھا کہ تقویٰ کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ کیا آپ کبھی کانٹے دار جھاڑیوں والے راستے سے گزرے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ ابی بن کعب نے کہا کہ پھر آپ نے اُس وقت کیا کیا۔ عمر فاروق نے کہا کہ میں نے اپنے کپڑے سمیٹ لیے اور کانٹوں سے بچتا ہوا گزر گیا ( شَمَّرْتُ وَاجْتَهَدْتُ )۔ ابی ابن کعب نے کہا کہ یہی تقویٰ ہے (فذلِكَ التَّقْوى) تفسير ابن كثير، 1 / 75 ۔ اس روایت سے تقویٰ کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ تقویٰ دراصل یہ ہے کہ آدمی اس دنیا میں ہر قسم کے فتنوں سے بچتا ہوا گزر جائے ۔ تقویٰ کو ایک لفظ میں محتاط طریقہ ( cautious approach) کہا جا سکتا ہے ۔ دنیا میں ہر وقت مختلف قسم کی ترغیبَات ( temptations) ہوتی ہیں ، مختلف قسم کے چھوٹے یا بڑے فتنے پائے جاتے ہیں ۔ ایسی حالت میں، تقویٰ کی روش یہ ہے کہ آدمی اُن سے بچتا ہوا گزرے ، وہ ہر موقع پر پرہیزگارانہ طریقہ، یا محتاط طریقہ اختیار کرے۔ تقویٰ کی اس روش پر قائم رہنے کے لیے دو چیزیں بہت زیادہ ضروری ہیں بی سنجیدگی اور محاسبہ ، یعنی چیزوں پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا اور ہر وقت اپنا محاسبہ کرتے رہنا۔ یہی دونوں صفتیں اس بات کی ضامن ہیں کہ آدمی تقویٰ کے راستے پر قائم رہے گا، وہ غیر متقیانہ روش اختیار کرنے سے بچا رہے گا۔ تقویٰ کسی ظاہری وضع قطع کا نام نہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ تقویٰ کا تعلق دل سے ہے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : اِلتَّقْوى هَاهُنا وَيُشِيْرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ( صحیح مسلم، حدیث نمبر 2564 )۔ یعنی تقویٰ یہاں ہے، اور اپنے سینے کی طرف تین مرتبہ اشارہ کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی گہرائی کے ساتھ معاملات پر غور کرے گا ، وہی تقویٰ کی روش پر قائم رہے گا ۔ تقویٰ حقیقت میں ایک داخلی کیفیت کا نام ہے ۔ داخلی طور پر اگر آدمی متقی نہ ہو تو کوئی بھی خارجی فارم خدا کے نزدیک اُس کو متقی کا درجہ نہیں دے سکتا۔ حدیث کا ترجمہ یہ ہے : یعنی اللہ نہیں دیکھتا ہے تمھارے جسموں کو اور نہ تمھاری صورتوں کو، لیکن وہ دیکھتا ہے تمھارے دلوں کو (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2564 )۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader