Urdu book · کتابِ معرفت

ربانیات

Urdu book, p. 262

By Maulana Wahiduddin Khan

حرص کا روحانی نقصان آدمی کی سب سے بڑی کمزوری حرص ہے۔ اس بنا پر ہر شخص کا یہ حال ہے کہ وہ ملے ہوئے کو کافی نہیں سمجھتا۔ ہر ایک اور زیادہ، اور زیادہ کی طلب میں مبتلا رہتا ہے۔ یہ نفسیات ایک تباہ کن نفسیات ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی اعلیٰ دعا کی توفیق سے محروم ہو جاتا ہے۔ اگر آدمی شکر کی نفسیات میں جئے، یعنی اس کا احساس یہ ہو کہ دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے جو کچھ مطلوب تھا، وہ خدا نے اس کو دے دیا۔ اگر آدمی اس احساس میں جی رہا ہو تو یہ احساس اُس کے لیے ایک اعلیٰ دعا کا پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بن جائے گا۔ اس کے دل کی گہرائیوں سے یہ الفاظ نکلیں گے خدا یا، دنیا میں تو نے میرے ساتھ و آتاکم مِنْ کُلّ مَا سَأَلْتُمُوهُ (14:34) کا معاملہ فرمایا۔ اب آخرت میں تو میرے ساتھ وہ معاملہ فرما جس کو تو نے اپنی کتاب میں اس طرح بیان فرمایا ہے : وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدْعُونَ (41:31)۔ پوائنٹ آف ریفرنس کے ساتھ جو دعا کی جائے، وہ ایک اعلیٰ دعا ہوتی ہے، ایسی دعا ایک گہرے احساس کے تحت نکلتی ہے۔ ایسی دعا ہمیشہ کسی تیار ذہن (prepared mind) کا نتیجہ ہوتی ہے، ایسی دعا آدمی کے پورے وجود کی نمائندہ ہوتی ہے۔ ایسی دعا میں الفاظ کی حیثیت محض ثانوی ہوتی ہے اور اصل حیثیت اُن داخلی کیفیات کی ہوتی ہے جو آدمی کے دل و دماغ کو بے چین کر دینے والی ہوں۔ ایسی دعا اُس وقت نکلتی ہے جب کہ خدا اور بندے کے درمیان اتنی قربت ہو جائے کہ کوئی درمیانی فاصلہ باقی نہ رہے۔ ایسی دعا میں الفاظ محض علامتی (symbolic) ہوتے ہیں۔ اصل دعا وہ ہوتی ہے جس کو صرف فرشتے سنتے ہیں اور اس کو بلا تاخیر رب العالمین تک پہنچادیتے ہیں بی حرص دنیا کی یہ نفسیات اس قسم کی اعلیٰ دعا کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page