Urdu book · کتابِ معرفت

ربانیات

Urdu book, p. 263

By Maulana Wahiduddin Khan

عقلی علم، داخلی معرفت کسی چیز کو جاننے کے دو درجے ہیں ایک ہے عقلی علم (rational knowledge) اور دوسرا ہے داخلی معرفت (inner realization) ۔ عقلی علم صرف ابتدائی علم ہے۔ اعلیٰ علم یہ ہے کہ آدمی کو داخلی بصیرت کی سطح پر حقیقت کا یقین حاصل ہو جائے۔ مثلاً اپنے ایک پڑوسی کے بارے میں آپ کی واقفیت صرف عقلی علم کی سطح پر ہوتی ہے۔ لیکن اپنی ماں کے بارے میں آپ کی واقفیت اس سے آگے بڑھ کر یقین (conviction) کی سطح پر ہوتی ہے۔ عقل اور منطق کے استعمال کے بغیر ہی آدمی کامل یقین کے درجے میں کسی ادنیٰ شبہہ کے بغیر یہ جان لیتا ہے کہ فلاں خاتون میری ماں ہے۔ یہی معاملہ خدا کے بارے میں ہے جو انسان کا خالق اور مالک ہے۔ خدا کی ابتدائی دریافت انسان کو عقل کی سطح پر ہوتی ہے۔ لیکن یہ دریافت ترقی کرتی رہتی ہے، یہاں تک کہ آدمی اس یقین کے درجے پر پہنچ جاتا ہے، جب کہ وہ اپنی داخلی بصیرت (inner perception) کے ذریعے کسی شک و شبہہ کے بغیر یقین کر لیتا ہے کہ خدا موجود ہے، ٹھیک اُسی طرح جس طرح میں خود موجود ہوں۔ یہی معاملہ خدا سے تعلق رکھنے والی تمام سچائیوں (truths) کا ہے۔ مثلاً قرآن اور رسول کا کلام، وغیرہ۔ ان متعلق سچائیوں کے بارے میں ابتدائی علم کسی آدمی کو عقلی غور وفکر کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ لیکن یہ معرفتِ حق کا ابتدائی درجہ ہے۔ معرفتِ حق کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آدمی کو ان حقیقتوں پر اس طرح کامل یقین ہو جائے کہ اس کی داخلی بصیرت (perception) ہی ان کی واقعیت پر بلا شک وشبہ اعتراف کے لیے کافی ہو جائے۔ اس معاملے میں علم کے دو درجے ہیں عقلی علم، اور ملکوتی علم۔ عقلی علم خارجی معلومات (data) پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں، ملکوتی علم حقیقت کے علم کا وہ درجہ ہے جب کہ انسان خود اپنی داخلی بصیرت کی بنیاد پر یقین کے اُس مقام تک پہنچ جائے جہاں وہ خارجی معلومات (data) کا محتاج نہ رہے۔ اُس کا اپنا داخلی احساس ہی اس کے لیے کامل یقین کا ذریعہ بن جائے، یعنی علم کا وہ درجہ جو ہر انسان کو اپنی ماں پر یقین کرنے کے لیے حاصل ہوتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page