Urdu book · کتابِ معرفت

ربانیات

Urdu book, p. 272

By Maulana Wahiduddin Khan

آج کی سب سے بڑی خبر اخبار کا ہاکر (hawker) آواز لگا کر اخبار بیچ رہا تھا آج کی سب سے بڑی خبر، آج کی سب سے بڑی خبر۔ میں نے سوچا کہ اخبار کے ہاکر کے لیے آج کی سب سے بڑی خبر وہ ہے جو اس کے اخبار میں پہلے صفحے پر چھپی ہے۔ لیکن آج کی سب سے بڑی خبر وہ ہے جو کائناتی سطح پر ظہور میں آئی ہے۔ یہ کائناتی خبر کیا ہے۔ وہ خبر یہ ہے کہ کل کا ڈوبا ہوا سورج آج دوبارہ روشنی اور حرارت دینے کے لیے طلوع ہوگیا ہے، ہواؤں کے ذریعہ انسان کے لیے آکسیجن کی سپلائی آج بھی مسلسل جاری ہے، زمین کی گردش (routation) کل کی طرح آج بھی نہایت صحت کے ساتھ ہورہی ہے، دریاؤں میں تازہ پانی کے چشمے بدستور بہہ رہے ہیں۔ ہوائیں کل کی طرح آج بھی بدستور چل رہی ہیں، زمین کی سطح پر زندگی کی سرگرمیاں آج بھی بدستور جاری ہیں۔ ہماری دنیا میں لائف سپورٹ سسٹم جو کل شام تک قائم تھا، وہ آج بھی بدستور قائم ہے، وغیرہ۔ ایک شخص نے کہا ہے کہ صبح کے وقت جب تم دیکھو کہ سورج کی کرنیں تمھارے کمرے میں داخل ہوگئی ہیں تو تم اپنے بستر سے اٹھو اور چلا کر کہو کہ ایک اور سنہری صبح۔ یہ بات صرف سورج کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ فطرت (nature) کے ہر واقعہ کے لیے ہے، حتیٰ کہ بہت سے واقعات جو بظاہر چھوٹے واقعات معلوم ہوتے ہیں، وہ بھی اپنی حقیقت کے اعتبار سے اتنا ہی بڑے ہیں جتنا کہ دوسرے بڑے بڑے واقعات۔ ایک عام واقعے میں خاص پہلو کو دریافت کرنا، یہی توسم (الحجر، 15:75) ہے اور یہی توسم معرفت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ معرفت ایک زندہ تجربہ ہے۔ معرفت ایک مسلسل دریافت کا نام ہے۔ معرفت یہ ہے کہ آدمی مادی دنیا سے روحانی غذا حاصل کر سکے۔ معرفت کوئی پراسرار چیز نہیں، معرفت وہی چیز ہے جس کو دوسرے الفاظ میں، ذہنی ارتقا (intellectual development) کہا جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page