ربانیات
Urdu book, p. 273
By Maulana Wahiduddin Khan
آفاقی آواز آپ کی میز پر ایک ریڈیو سیٹ رکھا ہوا ہے ۔ بظاہر وہ خاموش ہے۔ اس میں کوئی آواز نہیں ۔ لیکن جب آپ نے اس کو کھولا تو اچانک اس میں سے آوازیں آنے لگیں، با معنی آوازیں جس کا ایک ایک لفظ آپ سمجھ رہے تھے، جس کی ایک ایک بات آپ کے ذہن میں اترتی چلی جارہی تھی۔ اس کے بعد جب آپ نے اس کا سوئچ دبا کر اس کو بند کیا تو دوبارہ اچانک تمام آوازیں بند ہوگئیں ۔ اب بولتا ہوا ریڈیو خاموش ہوگیا۔ اب بھی وہی مشین آپ کی میز پر رکھی ہوئی ہے ، مگر اس سے کوئی آواز نہیں آ رہی ہے جس کو آپ سن سکیں ۔ کائنات بھی اسی قسم کا ایک بہت بڑا خدائی ریڈیو سیٹ ہے۔ وہ ہر آن پیغامات نشر کر رہا ہے۔ کسی وقفہ کے بغیر ، ہر لمحہ اس سے آوازیں نکل رہی ہیں ۔ وہ ہر صبح و شام یہ اعلان کر رہا ہے کہ یہ دنیا کیا ہے۔ انسان کو یہاں کیوں پیدا کیا گیا ہے۔ انسان کی کامیابی کیا ہے اور ناکامی کیا۔ انسان کہاں سے آیا ہے اور کہاں وہ دوبارہ لوٹ کر جائے گا۔ حق و باطل کا وہ کون سا خدائی معیار ہے جس پر موت کے بعد انسان کو جانچا جائے گا اور جس کے مطابق اس کے ابدی انجام کا فیصلہ ہوگا۔ جس طرح انسانی ریڈیو کی آوازیں ہم صرف اُس وقت سنتے ہیں جب کہ ہم ریڈیو کو آن (on) کریں اور اسی کے ساتھ ہم اپنے کان کھلے رکھیں ۔ اسی طرح کائنات کے عظیم تر ریڈیو سے نکلنے والی آوازیں بھی وہی لوگ سنتے ہیں جو اس کی طرف دھیان لگائیں اور اپنے دماغ کی کھڑکی کھڑکی اس کو سننے کے لیے کھلی رکھیں ۔ کائناتی ریڈیو بظاہر اپنا پیغام خاموش انداز میں نشر کر رہا ہے ، مگر سننے والوں کے لئے وہ ہر دوسری آواز سے زیادہ قابلِ سماعّت ہے۔ وہ آسمان کی وسعتوں میں پھیلا ہوا ہے، وہ سورج کی روشنی میں نمایاں ہے ، وہ پانی کی لہروں میں موج زن ہے ، وہ ہوا کی صورت میں ہمارے چاروں طرف داخل ہورہا ہے۔ غرض زمین کے پودوں سے لے کر آسمان کے ستاروں تک کوئی چیز ایسی نہیں جو اس آفاقی پیغام رسانی میں مصروف نہ ہو، ہی سننے والا صرف وہ ہے جو اس کائناتی آواز کو سنے اور اس کو اپنی زندگی کے لئے نشان راہ بنالے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader