Urdu book · کتابِ معرفت

ذکر و دعا

Urdu book, p. 279

By Maulana Wahiduddin Khan

ذکر کیا ہے مولانا عبد الماجد دریابادی (وفات 1977) نے قرآن کی آیت : فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ (2:152) کی تشریح کے تحت اپنی تفسیر میں لکھا ہے : ابوبکر جصّاص رازی (وفات 370ھ) نے ذکر سے مراد لیا ہے ـــ آیات الہی اور ان کی عظمت و قدرت کا تفکّر ، اور اسی کو سارے اذکار سے افضل اور ان کی اصل قرار دیا ہے (وذکرہ بالفکر فی دلائلہ وآياته وقدرتہ وعظمتہ ـــ وهو أفضل سائر وجوہ الذکر مبنية عليه وتابعة لہ) احکام القرآن 1/ 112۔ اصل یہ ہے کہ اللہ کی ذات کا تصور ہم موجودہ دنیا میں صرف اللہ کی صفات کے اُن مظاہر کے ذریعے کرتے ہیں جو ہمارے وجود میں اور کائنات میں ہر طرف بکھرے ہوئے ہیں۔ ان مظاہر فطرت میں تدبر کرنے سے ہم اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ذکر ، اللہ کے اسم ذات کی لفظی تکرار کا نام نہیں ہے۔ ذکر یہ ہے کہ اللہ کے تخلیقی مظاہر میں غور کیا جائے ، تخلیقی کمالات کے ذریعے اللہ کی عظمت کو دریافت کیا جائے۔ یہی ذکر ہے اور اسی ذکر کے ذریعے کسی انسان کو اللہ کی اعلیٰ معرفت حاصل ہوتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم خدا کی ذات کا مشاہدہ نہیں کر سکتے ، البتہ ہم خدا کی تخلیقات میں ضرور اس کی جھلک کو دیکھ سکتے ہیں۔ تخلیقات الہیٰ میں اسی غور وفکر کا نام ذکر ہے، اور اسی کے ذریعے کسی انسان کو وہ اعلیٰ درجہ ایمان نصیب ہوتا ہے جس کو معرفت کہا گیا ہے۔ ذات الہی کا مشاہدہ کرنے کی کوشش انسان کو یا تو وجد (ecstasy) تک پہنچاتی ہے ، یا کنفیوژن (confusion) تک ، اور یہ دونوں ہی بلاشبہ غیر مطلوب ہیں ـــ اس معاملے میں اصل مطلوب چیز وہی معرفت ربانی (divine realization) ہے جو تدبر اور تفکر کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ اس منزل تک پہنچنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page