ذکر و دعا
Urdu book, p. 280
By Maulana Wahiduddin Khan
ذکرِ کثیر قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ــ اللہ کی یاد بلاشبہ سب سے بڑی چیز ہے (ولذكر الله أكبر) دوسرے لفظوں میں یہ کہ کسی انسان کے لیے سب سے بڑی عبادت یہ ہے کہ وہ اللہ کو یاد کرے : And remembrance of God is the greatest thing. (29:45) انسان سے یہ ذکر سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ چناں چہ قرآن میں بار بار کہا گیا ہے کہ اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو (اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْراً كَثِيراً) ذکرِ کثیر سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد کوئی عدد، یا شماریاتی نصاب نہیں ہے، بلکہ اُس سے مراد ایک ذہنی کیفیت ہے۔ ایک روایت کے مطابق، حضرت عائشہ نے کہا: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 852)۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر موقع (occasion) پر اللہ کو یاد کرتے تھے۔ اس روایت سے ذکر کثیر کا مفہوم سمجھا جا سکتا ہے۔ أحيانِہ میں ہ کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے۔ اس کا مطلب ہے ــ أحيان الله، جیسے کہ قرآن میں آیا ہے : أَيَّامِ الله۔ اصل یہ ہے کہ کوئی بھی معاملہ جو انسان کے ساتھ پیش آتا ہے، اُس میں آلاء اللہ کا پہلو شامل رہتا ہے۔ آلاء اللہ سے مراد، اللہ کے کرشمے (wonders of God) ہیں جو ہر چیز میں شامل ہیں ، کوئی بھی چیز اُس سے خالی نہیں۔ ذکرِ کثیر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جس چیز کو بھی دیکھے، یا اُس پر جو بھی تجربہ گزرے ، وہ اس کو اللہ کی یاد کے لیے ایک پوائنٹ آف ریفرنس بنا لے : Make every experience a point of reference for the remembrance of God. ہر چیز اس کو خدا کی یاد دلائے۔ ہر تجربہ اس کے ایمان میں اضافے کا سبب بنتا رہے۔ ہر مطالعہ اور مشاہدہ، اس کے لیے خدا سے قربت کے ہم معنی بن جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader