معرفت الہی
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
ایمان کی شاخیں عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ- أَوْ بِضْعٌ وَسِتُّونَ - شُعْبَةً، فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر (35) ۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کی ستر یا ساٹھ سے زیادہ شاخیں ہیں۔ ان میں سب سے اعلی درجہ لا الہ الا اللہ کہنا ہے۔ اور اس کا ادنی درجہ راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے، اور حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔ اس حدیث کو کچھ لوگوں نے حسابی معنی میں لے لیا اور گنتی کے لحاظ سے وہ اس کی تشریح کرنے لگے۔ مثلاً ابو عبد اللہ الحلیمی (وفات 403ھ) جو بخارا میں شافع کے امام تھے، انہوں نے المنہاج فی شعب الایمان کے نام سے ایک مفصل کتاب اس حدیث کی تشریح میں لکھی ہے۔ انھوں نے ایمان کے 77 شعبے شمار کئے ہیں اور اسی نسبت سے کتاب میں 77 باب قائم کئے ہیں۔ اسی طرح حافظ ابو بکر البیہقی (وفات 358ھ) کی کتاب اس موضوع پر بہت مشہور ہے جس کا نام ”کتاب المنہاج المصنف فی شعب الإيمان‘ ہے۔ حافظ ابن حجر نے قلبی اعمال، لسانی اعمال اور بدنی اعمال کی تقسیم کر کے ایمان کی 69 شاخیں شمار کی ہیں (فتح الباری علی شرح صحیح البخاری، 1/ 53-52)، وغیرہ۔ مگر اس حدیث کی شماریاتی تشریح درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح ایک بڑے درخت کی شاخوں کی گنتی نہیں کی جاسکتی، اسی طرح ایمان کی شاخوں کی بھی کوئی گنتی نہیں۔ ایمان کا آغاز اللہ کی معرفت سے ہوتا ہے۔ جب ایک انسان پر اللہ رب العالمین کی حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے تو گویا اس کی روحانی زمین میں ایک ربانی بیج بود یا جاتا ہے۔ یہ بیج بڑھتا ہے، وہ شاخیں نکالتا ہے۔ آدمی کی سوچ سے لے کر اس کے قول و فعل تک ہر چیز میں اس کا رنگ شامل ہو جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث میں ایمان کی شاخوں سے مراد ایمان کے مظاہر (manifestations) ہیں۔ ایمان جب کسی آدمی کے قلب و دماغ میں شامل ہو جاتا ہے تو آدمی کی پوری شخصیت میں اس کا ظہور ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ ان گنت حد تک پہنچ جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader